سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت تاریخی پیش رفت ہوگی: نیتن یاہو

یروشلم (رائٹرز)اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کو ابراہیمی معاہدوں میں سعودی شمولیت سے مشروط کرنے کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے ایک تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اگر سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوتا ہے تو یہ پورے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت آگے بڑھے گا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس میں جوہری مواد کی افزودگی شامل نہیں ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں امریکا اور سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کے مستقبل کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔