سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن بند، عالمی منڈی میں بحران کا خدشہ

ریاض (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، الجزیرہ) سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل پائپ لائن ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کردی گئی، جس سے عالمی تیل کی فراہمی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

تقریباً 1200 کلومیٹر طویل مشرقی مغربی پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں واقع تیل کے ذخائر کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔ یہ سعودی عرب کیلئے آبنائے ہرمز کو نظر انداز کرتے ہوئے تیل مغربی ساحل تک پہنچانے کا اہم ترین راستہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق پائپ لائن حالیہ عرصے میں روزانہ تقریباً 4 سے 5 ملین بیرل خام تیل منتقل کر رہی تھی، جو عالمی تیل کی فراہمی کے تقریباً 4 سے 5 فیصد کے برابر ہے۔ پائپ لائن کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 10 ستمبر کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کو ڈرون حملوں سے نقصان پہنچا اور بعض افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر اس کی ترسیل معطل کردی گئی۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون عراق سے داغے گئے تھے۔

عراقی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراق کی درخواست پر فوری جوابی کارروائی سے گریز کیا ہے۔

“پائپ لائن کتنی اہم ہے؟”
مشرقی سعودی عرب سے ینبع تک خام تیل پہنچانے والی یہ پائپ لائن سعودی عرب کیلئے آبنائے ہرمز کا اہم متبادل راستہ ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی کیونکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہے۔

رائٹرز کے مطابق ینبع کی بندرگاہ پر موجود تیل کے ذخائر تقریباً 5 سے 7 دن تک برآمدات جاری رکھنے کیلئے کافی ہیں۔ اگر پائپ لائن جلد بحال نہ ہوئی تو سعودی عرب کیلئے مغربی راستے سے تیل کی برآمد برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

“عالمی تیل منڈی پر اثرات”
پائپ لائن کی بندش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہے۔ سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے بڑی مقدار میں تیل ہرمز سے گزرے بغیر بحیرۂ احمر تک پہنچا رہا تھا۔

رائٹرز کے مطابق پائپ لائن کی بندش عالمی تیل کی فراہمی میں 4 فیصد تک کمی کا خطرہ پیدا کر رہی ہے، جبکہ دیگر اندازوں میں یہ اثر 5 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر پائپ لائن کی بندش طویل ہوگئی اور بحیرۂ احمر میں بھی تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو پہلے سے محدود عالمی ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

“بحالی میں کئی ہفتے لگنے کا خدشہ”
تازہ رپورٹس کے مطابق پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی شدت کے باعث اس کی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ پائپ لائن تقریباً 3 سے 5 ہفتے تک بڑی حد تک بند رہ سکتی ہے، تاہم سعودی حکام نے بحالی کی حتمی مدت کا اعلان نہیں کیا۔

دوسری جانب اگر مرمت جلد مکمل نہ ہوئی تو ینبع میں موجود ذخائر ختم ہونے کے بعد سعودی تیل کی مغربی راستے سے برآمدات مزید کم ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی تیل منڈی میں رسد کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔