یہ کوئی ایک دو دہائیوں یا چند برس قبل کی بات نہیں، بلکہ صدیوں سے عبارت اس خطہ ارض میں جاری و ساری رہنے والے انسانی طرزِ حیات کے رواں دواں رہنے اور پھلنے پھولنے کا انتہائی خوش کن اور انسانیت کے دُکھوں کے بہت حد تک مداوا کیلئے حوصلہ افزاء حالات کا تذکرہ ہے جن کے ہوتے ہوئے اس پانچ دریاؤں کی سرزمین کی رعنائیاں، زیبائیاں اور انسانیت پروری کے تمام تر اوصاف سے مزین فضاؤں کا دور دورہ تھا۔ ایسا نہ ہوتا تو اہل ِ فکر ودانش صاحبانِ قلم و قرطاس اور رفیق علم و ادب کے چاند تارے اس نظام کی تعریف و توصیف پر گرہ نہ باندھتے۔”نئی ریساں شہر لاہور دیاں“ جہاں انسانیت کا دم غنیمت ہے، جس دھرتی میں لوگ روپوں میں نہیں آنوں میں بھوک مٹاتے ہیں، اسی عہد ِ باکمال میں لاہور کو نہ صرف مرکز ِ علم وادب کا نام دیا گیا بلکہ زندہ دلانِ لاہور بھی کہا گیا۔پھر خدا معلوم کون سی آندھی نے آ لیا اِسی لاہور کی فضاؤں کو کس کی نظر لگ گئی کہ قدرت کا جاری و ساری نظام خدا کے بندوں کے ہاتھوں پھیل گیا۔شہر کی حسین روائتیں،اس کی رنگینیاں،رعنائیاں، اس کی غریب و انسان پروری، محتاج خاندانوں کی شکم سیری، ضرورت مندوں سے عدل و انصاف کی روایات کا برقرار رکھنا،اسی ہنستے بستے معاشرے میں عنقا ہو گئے۔گویا نظام قدرت کے آگے ایک طرح کا بند کھڑا ہوا اور مشیت ِ ایزی محو ِ حیرت ہو گئی۔ تہذیب و شائستگی کی روایات ہی نہیں چھینی گئیں،بلکہ ادب و احترام کے مقابلے میں غیر اخلاقی اور غیر مہذب طرزِ تکلم نے اس خطے کی صدیوں سے قائم درخشاں روایات کو زندہ درگور کر کے رکھ دیا۔ وہ لاہور کہاں ہے جہاں موسموں کی مناسبت سے اس کے کوچہ و بازار، کچی پکی شاہراہوں،اعلیٰ طبقوں کے محلوں اور انتہائی غریب علاقوں کی کچی بستیوں میں چھلیاں بھوننے کے علاوہ لاتعداد مقامات پر انہیں ”آبو سٹے“ کہا جاتا۔ اس کام کیلئے زیادہ تر غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے مخصوص ہوئے، کہیں کونے کھدرے میں چھوٹی سی انگیٹھی رکھی ہوتی، کہیں ایک خالی جگہ پر ایک ہتھ ریڑھی پر یہ کام ہو رہا ہوتا، شدید گرمیوں میں مختلف امیر و غریب آبادیوں میں نو نو دس دس بچے جو غریب ماں باپ اور بہن بھائیوں کیلئے سکول سے واپسی پر چھوٹی تھرماسوں میں برف والی کلفی بیچا کرتے، ان کی آواز آیا کرتی،کھوئے والی باداموں والی“ کلفی“۔ سردیوں میں چھوٹی چھوٹی ہتھ ریڑھیوں پر اقتصادی بدحالی میں مبتلا گھروں کے کچھ مصیبت کے مارے ”شکر قندی“ کی دھونی رمائے روزی کمانے کی تگ ودو میں مصروف ہوتے۔ کون نہیں جانتا ملک میں 40فیصد سے زیادہ آبادی کے افراد جن میں بچے بچیاں، مرد، عورتیں، بوڑھے، ضعیف اور لاغر مریض بھی شامل ہیں، غربت کے ہاتھوں مجبور بچے اور جوان گرمیوں میں کندھوں پر سکنجبین کے مٹکا نما جگ اٹھائے بازار میں ٹھنڈا شربت کی آوازیں لگاتے نظر آتے تھے، کچھ کندھوں پر دونوں طرف بڑے بڑے تھیلوں میں چنے، ریوڑیاں، میٹھی پُھلیاں اور دوسری اسی نوح کی اشیاء کے ساتھ چنا چور گرم کی آوازیں لگا کر گاہک کو متوجہ کر رہے ہوتے تھے کون نہیں جانتا کہ اس ملک میں عسرت و تنگدستی کی کڑی دھوپ میں صرف ٹھنڈے پانی کے گھونٹ کی خاطر غریب گھروں کی بچیاں نالے پراندے بنا کر کہیں تو خود بیچنے بازار آ جاتی ہیں اور کہیں وہ یہ کام اپنے مردوں کو سونپ دیتی تھیں،حقائق سے انکار درحقیقت ملک کی 40فیصد سے زائد بے نوا، فاقہ کش، بھوکے ننگے، لوگوں کو قصداً جسم اور روح کو برقرار رکھنے والے اجزاء سے محروم کرنا ہے۔ گلی گلی، محلہ محلہ میں سبزیاں، مچھلی، مختلف نوعیت کے پھلوں کو خوانچوں میں بیچنے والے کس مقصد اور کن کے مخصوص فائدے کیلئے معاشرے سے عنقا ہو گئے۔ ایسے نظام میں لاہور کی رعنائیوں،غنائیوں اور عظیم النظیر روایتوں پر قائم کوئی ہے تو بے جا نہیں۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ
اے میرے لاہور تیری عظمتوں کو کیا ہوا
شرم آتی ہے تجھے اہل ستم کہتے ہوئے
مگر جب تک اس دھرتی پر لاہور باقی ہے اس کی رنگینیاں، مرغبانیاں اور زیبانیاں ضرور لوٹیں گی، تبھی لاہور، لاہور ہے کہ، گلی محلوں میں صدیوں سے قائم روایتوں کا خاتمہ اس کی غریب پروری پر ضرب لگانا ہو گی،جو ناممکن ہے۔چند ہی دِنوں کی بات ہے دم پخت سنگھاڑوں کی ریڑھی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی انتہائی نچلے اور متوسط طبقوں کے بچے بچیاں دس پندرہ روپوں میں کچھ نہ کچھ سنگھاڑوں سے لذتِ دہن لے لیا کرتے تھے وہ بھی چھن گئی۔ برف کے بلاکوں پر کٹے آڑوؤں کو غریبوں کی دسترس سے باہر کر دیا گیا کہاں ملے گی اب ان کی بلاکوں سجی ریڑھیاں اور تو اور ٹھٹھرتی سردیوں میں بے نوا خاندانوں کے بچے اِدھر اُدھر کے بازاروں میں کندھوں پر سجائے ویکسین کی جیکٹس بیچنے والوں کو ڈھونڈیں گے کہ وہ اُونے پونے بھاؤ سے غریبوں کے بچوں کو بہلا دیا کرتے اب یہ مال پلازوں اور مال شاپنگ لینے کہاں غریب جائیں گے؟

