تاویلہ، مغربی دارفور (رائٹرز) سوڈان کے شہر الفاشر میں پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے قبضے کے بعد عینی شاہدین نے انکشاف کیا ہے کہ سیکڑوں غیر مسلح مردوں کو ایک تالاب کے قریب لے جا کر گولیوں سے بھون دیا گیا۔
عینی شاہد الخیر اسمٰعیل نے رائٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ ہفتے کے روز اونٹوں پر سوار جنگجوؤں نے تقریباً دو سو مردوں کو تاویلہ کے قریب ایک جگہ اکٹھا کیا، نسلی نعرے لگائے اور پھر ان پر فائرنگ کر دی۔

الخیر اسمٰعیل کے مطابق اغوا کاروں میں سے ایک انہیں اسکول کے زمانے سے پہچانتا تھا جس نے انہیں رہا کر دیا، مگر ان کے تمام دوستوں کو قتل کر دیا گیا۔ وہ ان بے گھر افراد میں شامل ہیں جو الفاشر سے فرار کے بعد تاویلہ کے عارضی خیموں میں پناہ گزین ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، تنازع کی وجہ سے اس بیان کی فوری آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، تاہم ادارے نے ویڈیو اور دیگر شہادتوں سے اس واقعے کی جزوی تصدیق کی ہے۔مزید چار عینی شاہدین اور چھ امدادی کارکنوں نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ الفاشر سے فرار ہونے والے مردوں کو خواتین سے الگ کر کے لے جایا گیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بتایا کہ ممکنہ طور پر سیکڑوں عام شہری مارے گئے ہیں اور اس نوعیت کے قتل جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔آر ایس ایف نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات مخالفین کی کہانیاں ہیں، تاہم پینٹاگون اور دیگر عالمی اداروں نے صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، کم از کم تین تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آر ایس ایف کی وردی میں ملبوس افراد غیر مسلح مردوں پر فائرنگ کر رہے ہیں، جبکہ درجنوں ویڈیوز میں لاشوں کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔
آر ایس ایف کے ایک کمانڈر نے کہا کہ یہ رپورٹس میڈیا کی مبالغہ آرائی ہیں، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ بعض ارکان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور چند کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کی مدد کیلئےامدادی تنظیموں سے تعاون کیا جا رہا ہے اور کچھ گرفتار افراد کو رہا بھی کیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، الفاشر پر آر ایس ایف کا قبضہ سوڈان کی خانہ جنگی میں فیصلہ کن موڑ ہے، جو ملک کی مزید تقسیم کو جنم دے سکتا ہے۔
آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان دگالو نے 29 اکتوبر کی رات ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی فورس کے اہلکار عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف مقدمات چلائے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الفاشر میں جو کچھ ہوا وہ دارفور کے دیگر شہروں جینینا اور نیالا میں ہونے والے نسلی قتلِ عام سے ملتا جلتا ہے، جن کی تحقیقات بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کر رہی ہے۔
امریکا نے پہلے ہی آر ایس ایف پر نسل کشی کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات آر ایس ایف کی خفیہ حمایت کر رہا ہے، جس کی ابوظہبی حکومت نے سختی سے تردید کی ہے۔
تاویلہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم نان وائلنٹ پیس فورس کی اہلکار میری بریس نے کہا کہ وہاں پہنچنے والے زیادہ تر افراد خواتین، بچے اور بزرگ مرد ہیں۔ کچھ کو آر ایس ایف کے اہلکار ٹرکوں میں لے کر آئے جبکہ دیگر کو نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا۔
آر ایس ایف نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پناہ گزینوں کو خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم امدادی تنظیموں کے مطابق فورس متاثرین کو ان علاقوں میں روک رہی ہے جہاں سے وہ غیر ملکی امداد حاصل کر سکتی ہے۔

