سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+اے پی) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، مکمل طبی ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے اور طبی ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالت نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو سخت سیکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت تک اسپتال میں رکھنے کی ہدایت بھی کی۔

سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کو ڈاکٹرز کا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی، جس میں مختلف طبی ماہرین کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے ان کے بیٹوں سے فون پر بات کرانے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ شفا اسپتال میں علاج اور دیگر سہولیات کے اخراجات بانی پی ٹی آئی یا ان کے اہلخانہ برداشت کریں گے۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری نہیں بلکہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ آئندہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کے معائنے اور علاج کی مکمل طبی رپورٹس عدالت میں پیش کی جائیں گی۔

دورانِ سماعت جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے، عدالت کو سمری نہیں بلکہ مکمل ریکارڈ چاہیے۔

جسٹس شاہد وحید نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقات کے معاملے پر بھی سوالات کیے اور کہا کہ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ بنیادی حق ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہورہا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی، جس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ ریاست کا کام قانون کی خلاف ورزی کرنا نہیں۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے سوال کیا کہ رپورٹ میں انجیوگرافی کرانے کی بات لکھی ہے، کیا جیل میں انجیوگرافی ہوسکتی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ انجیوگرافی جیل سے باہر اسپتال میں ہوسکتی ہے۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقاتوں اور بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ اڈیالہ جیل حکام سے گزشتہ 3 سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔ جیل حکام کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی 48 ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں فراہم کردہ سہولیات واپس لی جاسکتی ہیں۔سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی۔