تل ابیب (چینل 12) اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنی جماعت لیکوڈ کے ارکانِ پارلیمنٹ کا طے شدہ اجلاس منسوخ کردیا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق اجلاس آج ہونا تھا، جس کا مقصد منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل لیکوڈ کے ارکانِ پارلیمنٹ کو انتخابی مہم کے لیے متحرک کرنا تھا، تاہم اجلاس شروع ہونے سے کچھ دیر قبل اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ الخلیل کے قریب حالیہ حملے کے بعد انہوں نے اسرائیلی فوج کو آپریشن کا حکم بھی دیا تھا۔
چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو آج بعد میں دوبارہ انتخابی مہم شروع کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہوں گے، جن میں نیتن یاہو کو سخت سیاسی مقابلے کا سامنا ہے۔ امریکا اور یورپ سے تقریباً 67 ہزار اسرائیلی ووٹ ڈالنے کے لیے اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرون ملک مقیم اسرائیلی ووٹروں کی آمد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ بعض ووٹروں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 20 سال سے جاری قیادت اور غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں سے ناخوش ہیں اور ملک کے لیے نئی سمت چاہتے ہیں۔نیتن یاہو ساتویں مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ اپوزیشن کی نمایاں شخصیات میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ اور سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ شامل ہیں۔اسرائیلی پارلیمنٹ کی 120 نشستوں کے لیے انتخابات ہوں گے، جبکہ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

