شہریت کے دستاویزات واپس لینے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم:وزیرِ امیگریشن

اوٹاوا(سی بی سی، امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا)کینیڈا کی وزیرِ امیگریشن لینا دیاب نے کہا ہے کہ شہریت کے ثبوت سے متعلق دستاویزات واپس طلب کیے جانے کے معاملے پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، کیونکہ گزشتہ ہفتے بعض افراد کو موصول ہونے والی ای میلز کے پیچھے کوئی مسئلہ سامنے آیا ہے۔

اوٹاوا میں پریس کانفرنس کے دوران لینا دیاب نے کہا کہ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ معاملے میں کوئی خرابی یا مسئلہ موجود ہے، انہوں نے فوری طور پر محکمانہ تحقیقات کی ہدایت جاری کی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی نئی درخواست کو حتمی منظوری نہیں دی جا رہی جبکہ تمام درخواستوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جن درخواستوں میں کوئی مسئلہ نہیں پایا جا رہا، متعلقہ افراد کو مطلع کیا جا رہا ہے کہ ان کی شہریت محفوظ ہے۔

وزیرِ امیگریشن نے کہا کہ وہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ شہریت کی حیثیت کے بارے میں لوگوں کی تشویش فطری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی اہم ہے کہ شہریت کے ثبوت کن افراد کو جاری کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ امیگریشن کے مطابق ای میلز چند درجن ایسے افراد کو بھیجی گئی تھیں جنہوں نے نئے قانون کے تحت نسبی بنیاد پر کینیڈین شہریت حاصل کی تھی۔ اس قانون کے تحت 15 دسمبر 2025 سے پہلے پیدا ہونے والے افراد اپنے کسی براہِ راست آباؤ اجداد کے ذریعے کینیڈین شہریت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

متاثرہ افراد میں سے بعض نے پہلے ہی کینیڈین پاسپورٹ حاصل کر لیا تھا، تاہم انہیں آگاہ کیا گیا کہ ان کے پاسپورٹ اب مؤثر نہیں رہے اور انہیں واپس کرنا ہوگا۔محکمہ امیگریشن نے نئے قانون کے تحت منظور ہونے والی تقریباً 4 ہزار 100 شہریت کی درخواستوں کا بھی ازسرِ نو جائزہ شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب، بعض ایسے افراد جنہیں گزشتہ ہفتے شہریت کے سرٹیفکیٹ واپس کرنے کا کہا گیا تھا، انہیں بعد میں نئی ای میلز موصول ہوئیں جن میں تصدیق کی گئی کہ ان کی شہریت برقرار ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ امیگریشن سے دو مرتبہ پوچھا گیا کہ اس جائزے کی اصل وجہ کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

لینا دیاب نے واضح کیا کہ جن افراد نے شہریت کا ثبوت حاصل کرنے کے بعد کینیڈا منتقل ہو کر رہائش اختیار کی ہے، ان کی قانونی حیثیت برقرار رہے گی اور وہ تحقیقات مکمل ہونے تک اپنا کام جاری رکھ سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت معاملے کا مکمل جائزہ لے گی اور مناسب وقت پر کینیڈین عوام کو واضح معلومات فراہم کی جائیں گی۔