شیخوپورہ (ایجنسیاں) شیخوپورہ میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں لاہور میں 3 پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے کے مقدمے میں مطلوب ملزمان فیاض بٹ اور اس کا بیٹا ریحان بٹ ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کا ایک ساتھی فرار ہوگیا۔
پولیس کے مطابق لاہور میں بادامی باغ اور نواں کوٹ کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ریحان بٹ، اس کے والد فیاض بٹ اور ایک ساتھی شیخوپورہ فرار ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے ایک شہری کے گھر میں پناہ لے کر اہل خانہ کو یرغمال بنا رکھا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق 3 مسلح ملزمان عبدالحفیظ نامی شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کی اہلیہ اور 3 بچوں کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے مکان کو گھیرے میں لے کر ملزمان کو ہتھیار ڈالنے اور خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔
مقدمے کے مطابق ملزمان نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی، جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس کی سرکاری گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق فائرنگ رکنے کے بعد پولیس اہلکار مکان میں داخل ہوئے تو صحن میں 2 لاشیں پڑی تھیں، جن کی شناخت فیاض بٹ اور ریحان بٹ کے نام سے ہوئی، جبکہ دونوں کے قریب اسلحہ بھی موجود تھا۔
پولیس کے مطابق فیاض بٹ کے پاس نائن ایم ایم پستول جبکہ ریحان بٹ کے پاس کلاشنکوف موجود تھی، اس کے علاوہ مکان سے ہینڈ گرنیڈ اور دیگر گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔پولیس نے بتایا کہ کارروائی کے دوران مکان میں یرغمال بنائے گئے افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا، جبکہ فرار ہونے والے تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب لاہور پولیس کے مطابق 13 اگست کی رات بادامی باغ اور نواں کوٹ میں فائرنگ کے واقعات میں سب انسپکٹر عدیل عاشق، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم شہید جبکہ 2 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
شیخوپورہ کے تھانہ صدر مریدکے میں درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، بارودی مواد رکھنے، قتل اور اقدام قتل سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق ریحان بٹ کا بھائی فیضان بٹ بھی 2024 میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا، جبکہ ریحان بٹ کے خلاف پولیس اہلکاروں کو مبینہ دھمکیاں دینے کا مقدمہ بھی درج تھا۔

