وائٹ بائی (اشرف خان لودھی سے) وائٹ بائی ایسٹ وارڈ 4 سے کونسلر کی امیدوار صائمہ حماد نے کہا ہے کہ وہ بلدیاتی کونسل میں علاقے کے رہائشیوں کی مضبوط، قابلِ رسائی اور جواب دہ آواز بننے کیلئے انتخاب لڑ رہی ہیں، ان کا مقصد رہائشیوں کی بات سننا، ان کی نمائندگی کرنا اور ان کیلئےکام کرنا ہے۔
اپنی انتخابی مہم کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے صائمہ حماد نے کہا کہ وائٹ بائی کا مستقبل شفافیت، جواب دہی اور ہر رہائشی کی بلدیاتی کونسل میں مؤثر آواز کے ساتھ مل کر تعمیر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ علاقے کے رہائشیوں کے مسائل، تجاویز اور ترجیحات سننا چاہتی ہیں، جن میں جائیداد ٹیکس، ذمہ دارانہ اخراجات، ٹریفک، سڑکیں، ترقیاتی منصوبے، شہری تحفظ اور بلدیاتی سہولیات شامل ہیں۔
صائمہ حماد نے کہا کہ وہ خود کو صرف امیدوار کے طور پر نہیں بلکہ وائٹ بائی کی ایک رہائشی سمجھتی ہیں، رہائشیوں کے مسائل ان کے اپنے مسائل اور ان کے خدشات ان کے خدشات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی آواز اور رہائشیوں کی آواز بلدیاتی کونسل میں ہونی چاہیے۔

صائمہ حماد نے اپنی انتخابی مہم کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح جائیداد ٹیکس میں اضافے کو قابو میں رکھنا ہے۔ خاندانوں اور بزرگ شہریوں کو مسلسل بڑھتے ہوئے جائیداد ٹیکس کے باعث مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ اس مقصد کیلئےوہ ذمہ دارانہ بلدیاتی اخراجات، ٹیکس کی ہر رقم کے بہتر استعمال، نئے اخراجات کے محتاط جائزے اور ٹیکس میں اضافے سے پہلے دستیاب وسائل میں بچت اور کارکردگی کے مواقع تلاش کرنے پر زور دیں گی۔
ان کی دوسری ترجیح ٹریفک اور آمدورفت کے مسائل میں کمی لانا ہے۔ صائمہ حماد نے کہا کہ ایسٹ وارڈ 4 کے رہائشی محفوظ سڑکوں اور ٹریفک میں کم وقت گزارنے کے حق دار ہیں۔ وہ ٹریفک کی روانی کی بہتر منصوبہ بندی، آبادی میں اضافے کے مطابق سڑکوں کی بہتری، تعمیراتی منصوبوں کے درمیان بہتر رابطے، محفوظ چوراہوں اور پیدل چلنے والوں کیلئے بہتر راستوں کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کے درمیان بہتر ہم آہنگی کیلئےکام کریں گی۔

تیسری ترجیح قابلِ استطاعت رہائش ہے۔ صائمہ حماد نے کہا کہ نوجوان خاندانوں، پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں، کرایہ داروں اور بزرگ شہریوں کیلئے ایسی رہائش ضروری ہے جو ان کی استطاعت میں ہو۔ ان کے مطابق رہائش کے مزید انتخاب، منظوری کے عمل کو بہتر اور تیز بنانے، ذمہ دارانہ ترقی، پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کیلئےمزید مواقع اور بزرگ شہریوں کیلئےایسی رہائش فراہم کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ گھر کا حجم کم کرکے بھی وائٹ بائی میں رہ سکیں۔
چوتھی ترجیح صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی ہے۔ صائمہ حماد نے کہا کہ اگرچہ صحت کا شعبہ بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم بلدیاتی حکومت صحت مند معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ وہ مقامی سطح پر صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی، بزرگ شہریوں کیلئے صحت کی خدمات تک رسائی میں معاونت اور وائٹ بائی، ڈرہم ریجن اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کیلئے کام کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کی منصوبہ بندی میں صحت کی سہولیات تک رسائی کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے اور رہائشیوں کو بروقت اور قابلِ رسائی صحت کی خدمات ملنی چاہئیں۔
پانچویں ترجیح بزرگ شہریوں کو ترجیح دینا ہے۔ صائمہ حماد نے کہا کہ بزرگ شہریوں نے معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ عزت، تحفظ اور باوقار زندگی کے حق دار ہیں۔ ان کے مطابق بزرگ شہریوں پر جائیداد ٹیکس کے دباؤ، رسائی اور پیدل چلنے کی سہولیات، بزرگوں کیلئےموزوں رہائش، مقامی خدمات تک بہتر رسائی اور انہیں معاشرے سے جوڑے رکھنے والے مضبوط پروگراموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
صائمہ حماد نے کہا کہ ان کا عزم ہے کہ وہ رہائشیوں کی بات سنیں گی، مسائل پر عملی اقدامات کریں گی اور ایسٹ وارڈ 4 کے لیے قابلِ عمل نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کونسلر بننا چاہتی ہیں جو رہائشیوں تک آسانی سے رسائی رکھے، مشکل سوالات اٹھائے اور علاقے کیلئے عملی نتائج کے حصول کیلئے کام کرے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر صائمہ حماد نے اپنے حامیوں، انتخابی ٹیم، رضاکاروں اور خصوصاً اپنے خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت، وقت اور حوصلہ افزائی ان کیلئےبہت اہم ہے اور وہ ان کے تعاون کے بغیر یہ سفر جاری نہیں رکھ سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سفر صرف ان کا نہیں بلکہ ان سب کا ہے جو ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صائمہ حماد نے حمادخاندان،عائشہ ندیم،صنوبرناز، شفیق، عرفان، شکیل اور جمیل قمر سمیت اپنے ساتھیوں کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

