ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی) اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ کیلئے خریدے گئے مہنگے سرکاری طیارے اور پنجاب کی وزیرِاعلیٰ مریم نواز کیلئے استعمال ہونے والے طیارے کے معاملات نے سرکاری وسائل کے استعمال، اخراجات اور حکمرانوں کی عوام کے سامنے جواب دہی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اونٹاریو حکومت نے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ کے سرکاری سفر کیلئے2016 میں تیار کیا گیا بمبارڈیئر چیلنجر 650 طیارہ 28.9 ملین کینیڈین ڈالر میں خریدا تھا۔ طیارے کی خریداری پر اونٹاریو حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کو وزیرِاعلیٰ کے سفری انتظامات کیلئےاتنی بڑی رقم خرچ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
رپورٹ کے مطابق طیارہ خریدنے کے بعد اس پر مزید سرکاری اخراجات بھی ہوئے، تاہم بعد ازاں حکومت نے اسے بمبارڈیئر کو تقریباً اسی قیمت پر واپس فروخت کردیا۔ طیارے کی خریداری، استعمال اور پھر واپسی کے فیصلے نے حکومت کی جانب سے عوامی رقم خرچ کرنے کے طریقہ کار پر مزید سوالات پیدا کیے۔
ڈگ فورڈ کی حکومت کو اس معاملے پر عوام اور سیاسی مخالفین کی جانب سے جواب دینا پڑا۔ تنقید کرنے والوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب حکومت عوامی خدمات، اخراجات اور بجٹ سے متعلق فیصلوں کا دفاع کرتی ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وزیرِاعلیٰ کیلئے مہنگا سرکاری طیارہ خریدنے کا فیصلہ کیوں ضروری سمجھا گیا اور اس سے عوام کو کیا فائدہ حاصل ہوا۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیرِاعلیٰ مریم نواز کیلئے سرکاری طیارے کے استعمال کا معاملہ بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ نے دونوں واقعات کو دو مختلف براعظموں اور مختلف سیاسی و معاشی حالات میں حکمرانوں کیلئے سرکاری طیاروں کے استعمال کی مثالوں کے طور پر پیش کیا ہے۔
رپورٹ میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ سرکاری عہدے داروں کے سفری اخراجات صرف رقم کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور جواب دہی سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ عوامی خزانے سے ہونیوالے بڑے اخراجات کے بارے میں حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کے جواز اور ضرورت کی وضاحت کریں۔
ڈگ فورڈ کے معاملے میں طیارے کی خریداری پر ہونے والی تنقید اور بعد ازاں اسے واپس فروخت کیے جانے کے باوجود یہ بحث برقرار رہی کہ عوامی رقم سے کیا جانے والا ایسا خرچ کس حد تک ضروری تھا، جبکہ پنجاب کے معاملے کو بھی اسی وسیع تر سوال کے تناظر میں دیکھا گیا ہے کہ حکمرانوں کے سفری انتظامات پر سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت اور عوامی جواب دہی کس حد تک یقینی بنائی جاتی ہے۔

