پشاور(نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی اپنے خلاف الزامات اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے لائیو پروگرام میں آبدیدہ ہوگئے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ان کے خط سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے میرے خط کے بارے میں جو کہا، اس پر مجھے بہت برا لگا، مجھے سہیل آفریدی سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سینئر پارٹی رکن ہونے کے ناتے میں نے صرف اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا، میں اصول کی بات کرتا ہوں اور مجھے کسی چیز کا ڈر یا خوف نہیں۔ 26 نومبر کے احتجاج کے دوران بھی میں نے اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر شک کیا جا رہا ہے کہ میں بک گیا ہوں، حالانکہ میں نے صرف پارٹی کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے اپنی رائے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد جو لوگ تحریک انصاف کے ساتھ رہے ہیں، انہوں نے سخت وقت دیکھا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تو میں نے کہا تھا کہ سب سے پہلے میں ہوں گا۔ انہوں نے ماضی میں سہیل آفریدی کے دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کار نہیں ہیں۔
انہوں نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی زبان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کارکنوں کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ ان کے پارٹی چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔
واضح رہے کہ شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں کو خط لکھ کر ملک کے وسیع تر مفاد اور موجودہ سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر 4 اکتوبر کو ہونے والا لانگ مارچ مزید مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کی جانوں کا تحفظ پارٹی کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے اور تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ روز شوکت یوسفزئی کے خط پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر خط انہیں ملا تو وہ اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں خط موصول نہیں ہوا اور نہ انہوں نے اسے پڑھا ہے، جبکہ 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کی تاریخ برقرار رہے گی۔

