واشنگٹن(اے ایف پی، نیویارک ٹائمز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قطر کی جانب سے تحفے میں ملنے والے نئے ’’ایئر فورس ون‘‘ طیارے کی سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ اس ہفتے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر نئے طیارے کے بجائے پرانے صدارتی جیٹ کے ذریعے امریکا روانہ ہوئے۔
اے ایف پی کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ تبدیل شدہ بوئنگ 747-8 طیارے پر صدر ٹرمپ نے اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا اور یہ طیارہ امریکا سے باہر اپنی پہلی پرواز میں انہیں انقرہ لے کر گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ترکی میں صدر ٹرمپ نے اچانک اعلان کیا کہ اس طیارے کو وقت سے پہلے برطانیہ کے ایک فضائی اڈے پر بھیجا جا رہا ہے تاکہ امریکی فوجی ماہرین اس کا معائنہ اور جائزہ لے سکیں۔
ادھر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئے طیارے میں وہ جدید دفاعی اور سیکیورٹی نظام موجود نہیں ہیں جو موجودہ صدارتی طیارے کی اہم خصوصیات سمجھے جاتے ہیں، جن میں اینٹی میزائل دفاعی نظام بھی شامل ہے۔
ان رپورٹس کے بعد نئے صدارتی طیارے کی سیکیورٹی اور اسے مکمل طور پر ’’ایئر فورس ون‘‘ کے معیار کے مطابق بنانے کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

