سیول ( رائٹرز، اے ایف پی، سیول نیوز نیٹ ورک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی کوریا سے روانہ ہونے کے ایک روز بعد بھی دارالحکومت سیول میں ان کیخلاف احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ یہ احتجاج امریکی سفارت خانے کے سامنے منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں اور سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔

مظاہرین نے ٹرمپ کی گھینگجو (شمالی گیونگسانگ صوبہ) میں ہونے والی کثیرالجہتی APEC سربراہی کانفرنس میں عدم شرکت اور امریکہ-کوریا تجارتی معاہدے پر شدید تنقید کی۔یہ احتجاج “انٹرنیشنل پیپلز ریسپانس اگینسٹ APEC 2025” نامی تنظیم کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس میں 35 ترقی پسند شہری تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ مظاہرہ جمعہ کے روز ٹرمپ کے دو روزہ دورۂ کوریا کے اختتام کے بعد ہوا۔
مظاہرین نے حال ہی میں طے پانے والے امریکہ-کوریا تجارتی مذاکرات کو “یک طرفہ” اور “امریکی مفادات کے حق میں غیر منصفانہ” قرار دیا۔شرکاء کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا APEC سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ بین الاقوامی تعاون کے بجائے معاشی خود غرضی اور قوم پرستی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

