ملٹن (اشرف خان لودھی سے) شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری خصوصی طور پر عظیم رضوی کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انہوں نے ملٹن سے میئر کی امیدوار زینب عظیم کی کامیابی کیلئے خصوصی دعا کی۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی ہیں اور دینی تعلیم، تصنیف و تحقیق کے حوالے سے معروف ہیں۔
اس موقع پر عظیم رضوی نے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علامہ صاحب سے ان کا تعلق بہت پرانا ہے اور وہ ان کی تعلیمات اور تصانیف سنتے اور پڑھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔
عظیم رضوی نے کہا کہ فہم القرآن سے لے کر آگے تک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی مختلف شعبوں میں جدوجہد اور خدمات سے بڑی تعداد میں لوگ فیضیاب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر طاہرالقادری کا پیغام عالمگیر نوعیت کا ہے جو کمیونٹی، نوجوان نسل اور نئی نسل کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے جوڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کی بنیادوں میں سیرت النبی ﷺ ایک اہم ستون ہے اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے پاکستان سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے درمیان اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے مطابق آج کی نسل کو مذہب، اپنی اقدار اور مقامی معاشرے کے ساتھ مربوط رکھنے میں بھی ان تعلیمات کا اہم کردار ہے۔
ملٹن سے میئر کی امیدوار زینب عظیم نے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ جس مقام پر کھڑی ہیں، اس کے پیچھے ان تمام نسلوں کی قربانیاں اور جدوجہد شامل ہیں جنہوں نے آنیوالی نسلوں کیلئے زیادہ مواقع پیدا کیے۔
زینب عظیم نے کہا کہ ان کے پاس موجود تعلیم، تجربات اور دیگر صلاحیتیں محض ذاتی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے نہیں بلکہ دوسروں تک آگے پہنچانے کیلئے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں اور ایک آزمائش ہیں۔ ان کے مطابق انسان کو اپنی نیت کے ساتھ اپنے اعمال کے ذریعے بھی پرکھا جاتا ہے، جبکہ نتائج انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے لیکن اپنی کوشش اور محنت انسان کے اختیار میں ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی حمد کے ساتھ دنیاوی ذمہ داریوں سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا۔ ان کے مطابق مسلمان کو معاشرے سے الگ ہو کر زندگی گزارنے کے بجائے اپنے کردار اور عمل کے ذریعے اس معاشرے میں اپنی شناخت اور اپنی اقدار کا اظہار کرنا چاہیے۔
زینب عظیم نے کہا کہ نئی نسل کیلئے ضروری ہے کہ وہ صرف باتیں، تبلیغ اور تعلیم تک محدود نہ رہے بلکہ اپنے عملی کردار سے بھی اسلام کی تعلیمات اور اقدار کو ان معاشروں تک پہنچائے جہاں وہ زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور ان کی نیت خالص رہے۔
زینب عظیم نے کہا کہ قیادت ایسی چیز نہیں جسے انسان کو خود طلب کرنا چاہیے بلکہ یہ ایک ذمہ داری اور آزمائش ہے، جس کیلئے انسان کو بلایا جائے، ذمہ داری دی جائے اور پھر اسےمحنت اور جدوجہد کے ساتھ نبھایا جائے۔
بعد ازاں رابعہ عظیم نے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور دیگر افراد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کیلئے خوش قسمتی کی بات ہے کہ سب لوگ اس موقع پر موجود ہیں اور زینب کی حمایت اور دعاؤں کیلئے ساتھ کھڑے ہیں۔
رابعہ عظیم نے کہا کہ نوجوان نسل کو آگے آنا چاہیے اور وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کتابیں اور تصانیف پڑھ کر بڑی ہوئی ہیں۔ جب وہ کالج اور یونیورسٹی میں تھیں تو ان کی کتابوں اور تصانیف سے رہنمائی حاصل کرتی تھیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ نسل بھی ڈاکٹر طاہرالقادری کی تصانیف سے رہنمائی حاصل کرے گی۔ ان کے مطابق زینب عظیم اپنے دین میں بھی ایک مثال قائم کر رہی ہیں اور جس معاشرے میں رہتی ہیں وہاں بھی مثبت کردار ادا کرنے کیلئے آگے بڑھ رہی ہیں۔رابعہ عظیم نے زینب عظیم کیلئے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں برکت اور کامیابی عطا فرمائے۔

