نیویارک (این بی سی نیوز)امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز نے اس الزام کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ اس کے طیارے کے عملے نے ایک 25 سالہ خاتون کو شکایت کے باوجود دوبارہ اسی نشست پر بیٹھنے پر مجبور کیا جہاں اس کے ساتھ موجود مسافر اسے دیکھتے ہوئے مبینہ طور پر مشت زنی کر رہا تھا۔
این بی سی نیوز کے مطابق واقعہ 3 ستمبر کو پیش آیا، جب نیویارک کے شہر روچسٹر سے صبح تقریباً 6 بجے نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی پرواز روانہ ہوئی۔ خاتون بچوں کے نفسیاتی بحران سے متعلق معالجہ کار ہے، تاہم حفاظتی خدشات کے باعث اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
خاتون نے ساتھ بیٹھے مسافر کو 35 سے 40 سال کی عمر کا بظاہر عام حلیے والا شخص بتایا، جس نے ٹی شرٹ اور پہاڑی علاقوں میں استعمال ہونے والی پتلون پہن رکھی تھی۔
اس کے مطابق اس نے مبینہ نازیبا حرکت دیکھتے ہی اپنی نشست چھوڑ دی اور فضائی عملے کو شکایت کی۔ عملے نے اسے پرواز کے بیشتر وقت کھڑے رہنے کی اجازت دی، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عملے نے متعلقہ مسافر سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی یا طیارے کے کپتان کو واقعے سے آگاہ کیا تھا۔
خاتون نے بتایا کہ طیارہ نیوارک پہنچنے کے قریب تھا تو عملے نے اسے لینڈنگ کیلئے اپنی نشست پر واپس جانے کو کہا۔ اس نے مسافر کے ساتھ بیٹھنے پر عدم اطمینان ظاہر کیا، لیکن عملے کا کہنا تھا کہ دوسری نشست خالی نہ ہونے کے باعث اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
خاتون کے بقول اس نے متعدد مرتبہ کہا کہ وہ اس شخص کے ساتھ بیٹھنے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے، لیکن عملے نے اسے بتایا کہ لینڈنگ کے دوران اسے صرف تقریباً 5 منٹ اس کے ساتھ گزارنے ہوں گے۔ تاہم دونوں طیارے کے پچھلے حصے میں بیٹھے تھے اور دیگر مسافروں کے پہلے اترنے کے باعث اسے توقع سے کہیں زیادہ دیر تک اسی شخص کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔
خاتون کا الزام ہے کہ طیارے سے اترنے کے بعد بھی اس شخص کو نہ تو قانون نافذ کرنیوالے اہلکاروں نے روکا اور نہ ہی فضائی کمپنی کے عملے نے اسے روکا، بلکہ وہ باآسانی وہاں سے چلا گیا۔ خاتون کے مطابق جب اس نے گیٹ پر موجود کمپنی کے نمائندے سے شکایت کی تو اس نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ اس معاملے میں کیا کر سکتا ہے۔
این بی سی نیوز کے مطابق خاتون نے فضائی کمپنی اور امریکی وفاقی ہوابازی انتظامیہ سے شکایت کی، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے سے بھی رابطہ کیا۔
ادارے کو موصول ہونے والی برقی مراسلت کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ایک نمائندے نے خاتون کو لکھا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ دوسرے مسافر کے ایسے رویے کا سامنا کرنا کتنا پریشان کن اور تکلیف دہ ہوسکتا ہے، خصوصاً ایسی نشست پر جہاں خاتون خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہو۔
خاتون نے اس جواب کے الفاظ کو الزام تراشی پر مبنی اور توہین آمیز قرار دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ عوامی مقام پر مشت زنی جیسے عمل کو محض ایسا رویہ قرار دینا جس سے اسے تشویش ہوئی، اس حرکت کی سنگینی کو کم کرکے پیش کرنے کے مترادف ہے۔ اس نے مزید کہا کہ فضائی کمپنی معمولی نوعیت کے نامناسب رویے پر بھی مسافروں کو پرواز سے اتار دیتی ہے، جبکہ اسے تقریباً 400 ڈالر کے فضائی ٹکٹ کے عوض صرف 100 ڈالر کا سفری کریڈٹ دیا گیا۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے پیپلز میگزین کو تصدیق کی ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم کمپنی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

