غربت اور ملبے تلے دبی لاشیں ……!

صوبائی دارالحکومت میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے سے پہلے ہی چھتیں گرنے اور ”غریبوں کے مرنے“ کے واقعات گزشتہ تین دنوں میں تین ہو چکے ہیں اور مرنے والے پانچ سال سے 12 سال کی عمر کے غریب بچے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا ایسے واقعات میں مرنے والا غریب ہی کیوں ہوتا ہے۔ چھت گرتی ہے تو مرنے والا غریب کا بچہ اس لئے ہے کیونکہ وہ جہاں پڑھ رہا ہے وہ ایک ناقص سٹرکچر ہے مگر اس کمزور اسٹرکچر میں سکول کی عمارت قائم کرنے کی اجازت کس نے دی۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ واقعہ رونما ہونے کے بعد یہ سوال کھڑا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے متعلقہ محکمے کچھ نہیں کرتے۔ کاہنہ میں جس کمرے کی چھت گری اور 14 بچے جاں بحق ہوئے وہ ایک پرانا بوسیدہ گھر تھا۔ جہاں چار غریب بھائی اکٹھے رہتے تھے۔ ایک بھائی جو پھلوں کا ٹھیلا لگاتا ہے اس کی بیوی 200 – 300 – 400 روپے ماہانہ کے عوض بچوں کو پڑھایا کرتی تھی۔ 17 سال سے گھر کی مرمت نہیں ہو سکی تھی۔ بارشیں ہوئیں تو چھت ٹپکنے لگی۔ ٹپکتی ہوئی چھت میں بچوں کو کیسے پڑھایا جائے، لہٰذا چھت پر مٹی ڈال دی گئی اور پھر اینٹیں لگائی جا رہی تھی کہ چھت بچوں کے اوپر آ گری۔ ویسے تو 30 بچے ٹیوشن پڑھنے آتے تھے لیکن اس روز 20 بچے آئے تھے۔ جن میں سے 14 اپنے رب کے پاس چلے گئے۔ پڑھانے والی استانی، اس کی بیٹی اور چار دوسرے بچے زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گئے۔ یہ خوش قسمت اسلئےٹھہرے کہ پورا محلہ اکٹھا ہو گیا اور لوگوں نے اپنے گھروں سے بیلچے لا کے مٹی ہٹا کے جلدی جلدی زخمیوں اور نعشوں کو نکال لیا۔ اب جو ”ظلم ہوا ہے“ میں اسے ”ظلم ہی کہوں گا“کہ تھانے میں نشتر ٹاؤن کے انفورسمنٹ انسپکٹر کاشف اسلم نے استانی اس کے پھل فروش شوہر اور مستری کیخلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ وہ شخص جس کی ذمہ داری تھی کہ کوئی اجازت کے بغیر تعمیر مر مت نہ کرے اسی شخص نے اس تعمیر کا پہلے جب یہ چھت ڈالی جا رہی تھی نوٹس نہیں لیا لیکن جب بچے مر گئے تو اسی شخص نے تھانے جا کر اپنی مدعیت میں پرچہ درج کروا دیا۔ کسی افسر نے نہیں پوچھا کہ تم پہلے کہاں تھے۔

”مگر کاروائی تو ڈل گئی“۔

دوسرا واقعہ اگلے ہی دن باغبان پورہ میں ہوا جہاں النصر پرائیویٹ سکول کی انتظامیہ نے ”مزید دولت کمانے کیلئے“ سکول سے ملحقہ عمارت خرید کر اس کو اپنے سکول میں شامل کرنے کے لئے وہاں کانٹ چھانٹ اور نئی تعمیر شروع کی۔ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے تعمیر مکمل کرنے کے لیے فورا جنریٹر منگوایا گیا۔ جنریٹر کی مدد سے کام شروع ہوا تو دوپہر ساڑھے 12 بجے جنریٹر ”گرم ہو جانے“ سے پھٹ گیا اور نئی ڈالی گئی چھت نیچے آ گری۔ النصر سکول میں اس وقت غیر قانونی سمر کلاسز جاری تھیں اور بچوں کو لینے کے لیے والدین گلی میں کھڑے تھے۔ زیر تعمیر بلڈنگ کی چھت گرنے سے 7 سالہ ابوبکر ملبے کے نیچے دب کر اللہ کو پیارا ہو گیا۔ ابوبکر کا باپ اجمل ایک غریب رکشہ ڈرائیور ہے۔ سکول کے باہر بچوں کو لینے آنیوالے پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہاں بھی ”کمال ہو گیا بلکہ محکمہ تعلیم زندہ باد“ ہو گیا۔ ایجوکیشن اتھارٹی نے فوری طور پر وائس پرنسپل اور خواتین اساتذہ کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور ان چھ خواتین اساتذہ اور وائس پرنسپل کو پولیس لے گئی۔ جناب وزیر تعلیم کا یہ فرمانا تھا کہ محکمہ تعلیم کو اسکول کی عمارت میں توسیع سے آگاہ نہیں کیا گیا جبکہ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ایجوکیشن اتھارٹی نے 15 دن قبل اس زیر تعمیر عمارت کا معائنہ کیا تھا اور وارننگ دی تھی، اگر آپ کو علم نہیں تھا یہاں تعمیر ہو رہی ہے تو پھر وارننگ کس کو اور کس لئے دی۔ لیکن مقدمہ پھر اسی ایجوکیشن اتھارٹی نے کرایا جو اس ”سب خرابی“ کی ذمہ دار ہے۔ ”گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے“ کیلئے دو ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر اور دو اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر معطل کر دیے گئے جو ”انشاء اللہ جلدی بحال“ بھی ہو جائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سکول رجسٹرڈ نہیں تھا۔ وزیر تعلیم موصوف کا ایک بیان اور سامنے آیا ہے کہ ہم 760 اکیڈمیاں بند کر رہے ہیں جو رجسٹر نہیں ہیں اور ساتھ ہی 744 غیر رجسٹر سکولوں کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ کمال ہے یہ سارا کام ایک دن میں ہو گیا۔ بس ”چھت گرنے اور بچوں کے مرنے“ کی دیر تھی سب پتہ چل گیا۔ افسر بھی معطل ہو گئے وزیر صاحب کا بیان بھی آ گیا۔ کاہنہ کے واقعہ میں جہاں چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے ہیں وہاں وزیراعلی مریم نواز شریف صاحبہ خود گئیں اور 14 بچوں کے والدین کو 20 – 20 لاکھ روپے کے چیک عنایت فرمائے۔ جبکہ زخمی بچوں کے والدین کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک دیے گئے۔ حکومت پاکستان نے انسانی جان کی ”قیمت یعنی قصاص و دیت“ 99 لاکھ روپے اور 90 ہزار روپیہ مقرر کی ہے۔ داتا دربار کے باہر نالے میں گر کر مرنے والی خاتون اور اس کی بچی کے باپ اور نانا کو ایک کروڑ 10 لاکھ روپے بطور دیت ٹھیکیدار سے دلوائے گئے تھے۔

کاہنہ میں چھت گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی ذمہ داری یقینی طور پہ نشتر ٹاؤن کی انتظامیہ کے ذمے آتی ہے، جنہوں نے اس پرانے بوسیدہ گھر کا نوٹس کیوں نہیں لیا۔ گھر والوں کو نوٹس کیوں جاری نہیں کیا۔ جب نقصان ہو گیا تو مقدمہ درج کرا دیا۔ گھر کے مالک کو اور اس کی بیوی کو گرفتار کرا دیا۔ چائیے تو یہ تھا کہ نشتر ٹاون کے افسروں کو بھی ”قصاص و دیت“ دینے کا پابند کیا جائے۔ حکومت خود جو 20۔ 20 لاکھ روپے دے رہی ہے یہ افسر کیوں نہ دیں جو ٹاؤن میں ہر گھر سے غیر قانونی تعمیر کے پیسے وصول کرتے ہیں۔

تیسرے واقع میں جو دو جولائی کو ہوا تین مرلہ سکیم رائیونڈ کے ایک گھر کی چھت پر بچیاں اور خواتین موجود تھیں کہ چھت گر گئی۔ جس سے 13 سالہ حمیرا ہلاک ہو گئی، جبکہ ایک بچی سمیرا اور دو خواتین زخمی ہو گئیں۔ یہ چھت بھی ”ٹی آر گا رڈرز“ کی تھی اور وہ بھی جس کے نیچے 14 بچے دب کر ہلاک ہوئے ٹی آر گارڈرز کی تھی۔ وہ بھی ایک پرانا بوسیدہ گھر تھا یہ بھی ایک چھوٹا سا گھر ہے۔ حکومت اپنے ٹاؤن افسروں کے ذریعے مقدمے تو کرا دیتی ہے کیا کبھی کسی نے یہ پوچھا کسی نے یہ سوچا کہ جس غریب کا یہ گھر ہے اس کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ پکی لینٹر والی چھت ڈلوا سکے اگر وہ نہیں ڈلوا سکتا تو غریب بچے تو مرتے رہیں گے۔