پیرس (رائٹرز، اے ایف پی، انادولو، یورونیوز) فرانس میں دو ہفتوں کی تعطیلات کے بعد پیر کے روز طلبہ نے ایک مرتبہ پھر احتجاجی تحریک شروع کر دی، جس کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ فرانسیسی وزارتِ تعلیم کے مطابق صبح کے وقت ملک کے 41 تعلیمی ادارے ناکہ بندی یا اس کی کوششوں سے متاثر ہوئے، جو ملک کے مجموعی ہائی اسکولوں کا تقریباً ایک فیصد ہیں۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری طلبہ تحریک نے ستمبر میں جنم لیا تھا، جس کا آغاز پیرس کے نواحی علاقے کریتیل سے ہوا۔ ابتدا میں طلبہ اور اساتذہ نے تعلیمی اداروں میں عملے کی کمی، خراب عمارتوں اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے خلاف آواز اٹھائی، تاہم بعد ازاں یہ احتجاج مہنگائی، بڑھتے اخراجات، معاشرتی ناہمواری اور سرکاری خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہوگیا۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں طلبہ نے تعلیمی اداروں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کیں۔ جنوبی شہر مارسی میں ایک ہائی اسکول کے داخلی راستے پر کوڑے کے ڈبے رکھ کر آمدورفت روک دی گئی۔ پیرس کے 20ویں ضلع میں ہیلین بوشے ہائی اسکول کے باہر بھی طلبہ نے ناکہ بندی کی۔
فرانسیسی وزیرِ تعلیم ایڈوارڈ گیفری نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی اداروں کی بندش سے گریز کریں اور دوسرے طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے سے نہ روکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا طلبہ کا حق ہے، تاہم اسکولوں تک رسائی روکنا غیر قانونی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تعلیمی تعطل سے طلبہ کا تعلیمی سال اور امتحانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
وزیرِ تعلیم کے مطابق حکومت نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں یونیورسٹیوں میں داخلے کے طریقہ کار میں تبدیلی، اساتذہ کی تعداد میں اضافہ اور جماعتوں میں طلبہ کی تعداد محدود کرنا شامل ہے، تاہم احتجاج کرنے والے طلبہ ان اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب فرانس کی بڑی مزدور تنظیموں نے 5 نومبر بروز جمعرات ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کی کال دے رکھی ہے۔ اس ہڑتال میں سرکاری اور نجی شعبوں کے ملازمین، اساتذہ، طبی عملے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کی شرکت متوقع ہے۔
مزدور تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں اور عوامی خدمات کے لیے مناسب بجٹ مختص کیا جائے۔ مزدور تنظیموں نے حکومت کے مجوزہ بجٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
5 نومبر کی ہڑتال سے ریل گاڑیوں، شہری ٹرانسپورٹ، اسکولوں، اسپتالوں، سرکاری دفاتر، ڈاک اور دیگر خدمات متاثر ہونے کا امکان ہے۔ پیرس میں بڑے احتجاجی مارچ کی تیاری بھی کی جا رہی ہے، تاہم مارچ کے راستے کی حتمی منظوری پولیس حکام کی جانب سے دی جانی ہے۔
فرانسیسی ریلوے ادارہ 3 نومبر کو ٹرینوں کے نظام الاوقات اور ممکنہ تعطل کی تفصیلات جاری کرے گا، جبکہ فضائی سفر کے حوالے سے معلومات 4 نومبر کو سامنے آنے کی توقع ہے۔
ادھر گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بھی فرانس کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور عوامی سہولتوں کی کمی کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئے تھے۔ 31 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کے دوران پیرس، لیون اور تولوز میں بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پولیس نے آنسو گیس استعمال کی جبکہ چھوٹے گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی بھی کی گئی۔
حکام کو خدشہ ہے کہ 5 نومبر کی ملک گیر ہڑتال کے دوران احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس سے ملک میں پہلے سے جاری سیاسی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

