فرسٹ نیشنز کے صاف پانی کے بل پر تنقید، مشاورت کے عمل پر سوالات

اوٹاوا( دی ہل ٹائمز)کینیڈا میں فرسٹ نیشنز کیلئےصاف پانی سے متعلق دوبارہ پیش کیے گئے قانون پر مقامی رہنماؤں، سینیٹرز اور اپوزیشن ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی لبرل حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مقامی اقوام سے مشاورت کے آئینی تقاضوں کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کر رہی ہے۔

سینیٹر مشیل اوڈیٹ، جو سینیٹ کی مقامی اقوام سے متعلق کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے کہا کہ متعدد گواہوں نے حکومت کے ’’مانو یا چھوڑ دو‘‘ طرزِ عمل پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم مارک کارنی کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے مقامی اقوام کو فیصلوں میں مؤثر شمولیت کا موقع نہیں ملا۔

اوڈیٹ نے کہا کہ ’’ون کینیڈین اکانومی ایکٹ‘‘ کی تیزی سے منظوری نے واضح کر دیا تھا کہ موجودہ حکومت قانون سازی کے معاملات میں کس انداز سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

نیا مجوزہ قانون ’’فرسٹ نیشنز کلین واٹر ایکٹ‘‘ فرسٹ نیشنز کی زمینوں پر پینے کے صاف پانی اور نکاسیٔ آب کے نظام کے لیے وفاقی، صوبائی اور علاقائی معیار مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ فرسٹ نیشنز کی قیادت میں ایک واٹر کمیشن کے قیام کی تجویز دیتا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بل سابقہ مسودے کے مقابلے میں مقامی اقوام کے حقوق کے تحفظ کی ضمانتوں کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے مطابق پہلے بل میں فرسٹ نیشنز کے حقوق کو برقرار رکھنے پر زیادہ زور دیا گیا تھا جبکہ نئے مسودے میں صاف پانی کے حق کو ’’مرحلہ وار حصول‘‘ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

چیفس آف اونٹاریو کے گرینڈ چیف ایلون فڈلر نے بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے بنیادی ڈھانچے کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اس میں حقوق اور پانی کے قدرتی ذرائع کے تحفظ سے متعلق زبان مزید مضبوط ہونی چاہیے تھی۔

انیشینابیک نیشن کی گرینڈ چیف لنڈا ڈیباسیج نے کہا کہ سابقہ بل دو سال سے زائد عرصے کی بامعنی مشاورت اور شراکت داری کا نتیجہ تھا، جبکہ موجودہ قانون وسیع پیمانے پر فرسٹ نیشنز کی رائے لیے بغیر پیش کیا گیا۔

کینیڈین پارلیمنٹ میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی مقامی امور کی ناقد لیا گیزان نے بل میں تبدیلیوں کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مقامی اقوام کے حقوق کو صرف اس وقت اہمیت دیتی ہے جب وہ اس کے سیاسی یا معاشی مفادات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بلی مورین نے کہا کہ صاف پانی تک رسائی فرسٹ نیشنز کا بنیادی حق ہے اور لبرل حکومت گیارہ سال قبل کیے گئے اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں پینے کے پانی سے متعلق انتباہات ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر برائے مقامی خدمات مینڈی گل ماسٹی نے ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’مرحلہ وار حصول‘‘ کی اصطلاح اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک بھر کی تمام فرسٹ نیشنز کمیونٹیز ایک جیسی صورتحال سے آغاز نہیں کر رہیں۔ ان کے مطابق حکومت ایسا قانون بنانا چاہتی ہے جس پر صوبے، علاقے اور مقامی برادریاں مل کر عمل کر سکیں۔

تاہم متعدد مقامی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ قانون میں شامل اہم تبدیلیوں پر ان سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی اور حکومت نے صوبائی تحفظات کو مقامی اقوام کے مطالبات پر ترجیح دی ہے۔

سینیٹر کم پیٹ نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مقامی حقوق کو تسلیم کرنے کے بجائے ان پر سمجھوتہ کیا گیا تو اس سے مزید قانونی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی اقوام کو بار بار اپنے تسلیم شدہ حقوق کے دفاع کے لیے عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مقامی اقوام کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مستقبل میں اس معاملے پر سیاسی اور عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔