فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب، غزہ میں قتل عام روکنے کا مطالبہ

نیویارک (اقوام متحدہ) فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کو جنرل اسمبلی میں شرکت سے روکنا ناقابل قبول ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی ویزا پابندیوں کے باعث محمود عباس کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کی اجازت دی تھی۔ جنرل اسمبلی نے 17 ستمبر کو 152 ووٹوں سے قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت فلسطینی صدر کا پہلے سے ریکارڈ شدہ خطاب اجلاس میں چلانے کی اجازت دی گئی۔

محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی وفد کو روکنا میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے، امریکا فلسطینی وفد پر عائد پابندیاں ختم کرے۔

فلسطینی صدر نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی عوام کا قتل عام کیا گیا، جبکہ علاقے کو اس وقت تباہی اور بھوک کا سامنا ہے، غزہ میں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی کا بھی سامنا ہے۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو نسل کشی کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا، تاہم اس حوالے سے اب تک پیشرفت نہیں ہوئی۔

محمود عباس نے کہا کہ دو ریاستی حل سب کیلئے امن یقینی بناتا ہے، جبکہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی روک تھام بھی یقینی بنائی جائے۔فلسطینی صدر نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے خلاف قتل عام روکا جائے اور ایک اور نکبہ سے بچایا جائے۔