فورڈ فیسٹ کی تصویر میں ردوبدل کے الزامات، حکومتِ اونٹاریو کی تردید

ٹورنٹو(سی بی سی)کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں حکمران پروگریسو کنزرویٹو پارٹی کے سالانہ ’’فورڈ فیسٹ‘‘ کی ایک فضائی تصویر پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں سی بی سی کی فیکٹ چیک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ تصویر میں رنگوں میں ایسی تبدیلی کی گئی جس سے احتجاج کرنے والے افراد حامی دکھائی دینے لگے۔

یہ تصویر اونٹاریو کے اٹارنی جنرل ڈگ ڈاؤنی اور اسکاربرو سینٹر سے رکن صوبائی پارلیمان ڈیوڈ اسمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کی تھی۔ تصویر میں اسٹیج کے سامنے موجود ہجوم کے زیادہ تر افراد نیلی قمیضوں میں دکھائی دے رہے تھے، جو حکمران جماعت کے حامیوں کا تاثر دے رہے تھے۔

تاہم تقریب میں موجود سی بی سی کے نمائندوں کے مطابق اسی مقام پر اونٹاریو پبلک سروس ایمپلائز یونین کے درجنوں کارکن جامنی رنگ کی قمیضیں پہنے ہوئے موجود تھے جن پر ’’ورث فائٹنگ فار‘‘ درج تھا۔ کارکنوں نے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ اور ان کے ساتھیوں کی آمد پر نعرے بازی اور احتجاج بھی کیا تھا۔

سی بی سی کی فیکٹ چیک ٹیم نے تصویر کا موازنہ موقع پر بنائی گئی ویڈیوز اور احتجاج کی دستاویزات سے کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ تصویر میں نیلی دکھائی دینے والی کئی قمیضیں دراصل جامنی رنگ کی تھیں، جن پر یونین کا نعرہ درج تھا۔

اٹارنی جنرل ڈگ ڈاؤنی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے تصویر پر خاص توجہ نہیں دی تھی اور ان کے خیال میں یہ کوئی اہم معاملہ نہیں۔

دوسری جانب وزیرِاعلیٰ کے دفتر کی ترجمان ہینا جینسن نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تصویر میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق صرف رنگوں کی معمول کی درستی کی گئی تھی تاکہ تصویر میں موجود نارنجی جھکاؤ کو درست کیا جا سکے، جو ایک عام اور معمول کا عمل ہے۔

ادھر صوبائی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما مارٹ اسٹائلز نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر اپنی ہی تقریب میں احتجاج کا سامنا کرنا پڑے تو تصویر میں تبدیلی کر کے مظاہرین کو حامی ظاہر کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

واضح رہے کہ اس سال فورڈ فیسٹ اسکاربرو ساؤتھ ویسٹ کے حلقے کے قریب منعقد کیا گیا، جہاں رواں سال وفاقی ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد صوبائی نشست خالی ہونے پر جلد ضمنی انتخاب متوقع ہے۔