فیفا ورلڈ کپ :5پاکستانیوں سمیت کینیڈا آنیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ کی درخواست کردی

اوٹاوا (دی گلوب اینڈ میل، امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا، دی کینیڈین پریس)فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران کینیڈا آنے والے5پاکستانیوں سمیت 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔

دی گلوب اینڈ میل کی رپورٹ اور امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (آئی آر سی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ٹورنٹو اور وینکوور میں فیفا ورلڈ کپ کے 13 میچز منعقد ہوئے، جن کیلئے کینیڈا نے 26 ہزار 111 عارضی رہائشی درخواست گزاروں کو ویزے جاری کیے تھے۔

آئی آر سی سی کے مطابق 20 جولائی 2026 تک فیفا ورلڈ کپ سے متعلق منظور شدہ عارضی رہائشی درخواستوں والے 175 افراد بعد ازاں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔ ان درخواستوں کا جائزہ کینیڈا کے پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

امیگریشن حکام نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ سیاسی پناہ کی درخواست دینے والوں میں کتنے فٹبال کھلاڑی، کوچز یا ٹیموں کے معاون عملے کے ارکان شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25، مصر کے 15، کولمبیا کے 15، سینیگال کے 10، ایکواڈور کے 5، کینیا کے 15، چین کے 10، بنگلہ دیش کے 10، نائیجیریا کے 10، برونڈی، نیپال اور پاکستان کے 5، 5 شہریوں نے بھی سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ مزید درخواستوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ بعض افراد ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 5 افراد ایسے بھی تھے جو ویزے کے بجائے الیکٹرانک سفری اجازت نامے کے ذریعے کینیڈا آئے تھے اور بعد میں انہوں نے بھی سیاسی پناہ کی درخواست دی۔

فیفا ورلڈ کپ سے قبل امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا نے واضح کیا تھا کہ ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے ویزے یا الیکٹرانک سفری اجازت نامے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں، اور اگر خدشہ ہو کہ کوئی شخص واپس نہیں جائے گا تو اسے ویزا جاری نہ کرنے یا سرحد پر داخلے سے انکار کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔

کینیڈا کے امیگریشن وکیل اسٹیفن گرین نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے شائقین کے مقابلے میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد نسبتاً کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال مؤثر انداز میں کی۔