مظفرآباد (نمائندہ خصوصی)وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو ریاست سختی سے نمٹے گی اور کسی کو بھی امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کا راستہ نکالنا چاہتی ہے، تاہم اگر کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا تو ریاست آہنی ہاتھوں سے کارروائی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کسی بھی صورت افراتفری کی متحمل نہیں ہو سکتی، احتجاج کا مرحلہ وقتی طور پر گزر جائے گا لیکن اس کے اثرات دیرپا اور نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل اپنے ایک بیان میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا تھا کہ دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی میں ملوث عناصر طالبان خارجیوں کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں حالات جس نہج پر پہنچ رہے تھے، اس کے پیش نظر ایکشن کمیٹی پر پابندی ناگزیر ہو گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقوق کا مطالبہ کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن حقوق کی آڑ میں متوازی ریاست قائم کرنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں انتشار سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو پہنچتا ہے، اسلئے ایسے حالات پیدا کرنا نہ آزاد کشمیر اور نہ ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر نے بھی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کے باعث تین مرتبہ امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی، جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا گیا، تاہم اس بار ایکشن کمیٹی مذاکراتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ نہیں تھی۔

