اوٹاوا ( نیشنل پوسٹ، لیجر پول)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کو رواں گرمیوں میں متعدد اہم سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں البرٹا کی مجوزہ پائپ لائن، ممکنہ ریفرنڈم، امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات اور آئندہ ضمنی انتخابات شامل ہیں۔
نیشنل پوسٹ اور لیجر کے تازہ ترین سروے کے مطابق لبرل پارٹی فیصلہ کر چکے ووٹروں میں 48 فیصد حمایت کے ساتھ بدستور سب سے آگے ہے، اگرچہ یکم جون کے مقابلے میں اس کی مقبولیت میں دو فیصد کمی آئی ہے۔ دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی 34 فیصد حمایت کے ساتھ اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
سروے کے مطابق 57 فیصد کینیڈین وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جو جون کے آغاز کے مقابلے میں تین فیصد زیادہ ہے، جبکہ 36 فیصد افراد حکومت سے عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔
لیجر کے ایگزیکٹو نائب صدر اینڈریو اینز کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران رائے عامہ کے اعداد و شمار میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے کیونکہ اس عرصے میں عوام سیاست پر نسبتاً کم توجہ دیتے ہیں، تاہم پسِ منظر میں کئی اہم فیصلے زیرِ غور رہیں گے۔
رپورٹ کے مطابق البرٹا حکومت جلد ایک نئی تیل پائپ لائن منصوبے کی درخواست جمع کرا سکتی ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت کو یکم اکتوبر تک فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اسے قومی مفاد کا منصوبہ قرار دے کر منظوری دی جائے یا نہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب البرٹا میں کینیڈا کے ساتھ رہنے یا علیحدگی سے متعلق ریفرنڈم کی بحث بھی زور پکڑ رہی ہے۔
کینیڈا انرجی ریگولیٹر کے سابق چیئرمین جارج ویگ کے مطابق ایسے منصوبے کو قومی مفاد قرار دینے کا اختیار بڑی حد تک وفاقی حکومت اور بالخصوص وزیرِاعظم کے دفتر کے پاس ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ مجوزہ پائپ لائن کے لیے نجی شعبے کا کون سا ادارہ سرمایہ کاری کرے گا یا اس کا راستہ برٹش کولمبیا کے ساحل تک کس سمت سے جائے گا۔
جارج ویگ نے نشاندہی کی کہ کینیڈا اور البرٹا کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں اگرچہ منصوبے کی نجی شعبے کے ذریعے تعمیر اور مالی اعانت کا ذکر موجود ہے، تاہم یہ دستاویز قانونی طور پر پابند نہیں ہے۔
انہوں نے ٹرانس ماؤنٹین توسیعی منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے منصوبوں کے اخراجات ٹیکس دہندگان نے بھی برداشت کیے ہیں، اس لیے سرکاری ملکیت یا مالی معاونت کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی۔

