نیویارک (رائٹرز/ایسوسی ایٹڈ پریس/فیفا) ارجنٹینا کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں متنازع ریفری فیصلوں کے بعد مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے میچ آفیشلز اور ٹورنامنٹ کے انتظامی امور پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقابلے کے بعض فیصلے منصفانہ نہیں تھے۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں حسام حسن نے کہا کہ نتائج کچھ بھی ہوں، وہ وہی بات کریں گے جو ان کے دل میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض فیصلوں سے ایسا تاثر ملا کہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور اس کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کو ٹورنامنٹ میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر مصر کے کھلاڑی مصطفیٰ زیکو نے بھی ریفری کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ میچ کے آغاز سے ہی فیصلے ان کی ٹیم کے خلاف رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفری نے دو ایسے مواقع پر بھی پنالٹی نہیں دی جب ان کے بقول ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے مصری کھلاڑیوں کو فاؤل کیا۔
مصری ٹیم نے خاص طور پر دوسرے ہاف میں ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کی مدد سے اپنا گول منسوخ کیے جانے پر اعتراض اٹھایا۔ ٹیم کا مؤقف ہے کہ ایک مبینہ فاؤل کی بنیاد پر گول مسترد کیا گیا، جسے وہ متنازع فیصلہ قرار دیتی ہے۔
دوسری جانب فیفا اور میچ آفیشلز کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

