مشکل حالات سے نکلنے کا راستہ، قومی مشاورت ہے!

مشرق وسطیٰ کے حالات سامنے ہیں، اس حوالے سے ایک سے زیادہ بار عرض کر چکا ہوں کہ یہ سب مسلمانوں کے اپنے کردار کا کیا دھرا ہے اور یہ بھی بتایا کہ اسرائیل، امریکی مکمل حمائت کے ساتھ یہ سب کرتا چلا جا رہا اور ایسا ہی ہوتا بھی رہے گا اب نوبت یہاں تک آ گئی کہ خود مسلمان ممالک کے اندر متوقع اتحاد نظر نہیں آتا۔ ایران کی جنگ میں شدید نقصان کے باوجود ثابت قدمی نے امریکہ کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب مزاحیہ قسم کی حرکات کرنے لگے ہیں اور آبنائے ہرمز کو امریکی خطہ ظاہر کرنے سے بھی یہی ظاہر ہو رہا ہے۔متحدہ امارات اور ایران کے تعلقات میں دراڑ بڑھ گئی اور سعودی عرب کو بھی شکایات ہیں جبکہ حوثیوں نے اپنی سابقہ لڑائی پھر سے چھیڑ دی اور اب سعودی عرب کے وسائل پر حملہ آور ہیں۔ اگرچہ معاہدہ مکہ کے تحت اب سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ترکیہ بھی شامل ہے اس کے باوجود تشویش ظاہر کرنے سے زیادہ کوئی اقدام نہیں کیا گیا حالانکہ معاہدہ کے مطابق ترکیہ اور پاکستان کو سعودی عرب کے مفادات کے تحفظ کے لئے بھی قدم اٹھانا چاہیے لیکن ہر دو کی طرف سے نہ صرف تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے بلکہ امریکی صدر سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اسرائیل کو صحیح راہ پر لائے گا جبکہ حالات سے ظاہر ہے کہ امریکہ ایسا نہیں کرے گا، اس کا ثبوت جیرا ڈکشنر کا دورہ ہے جس کے دوران انہوں نے حماس کے رہنماؤں سے بات کرنے کے ساتھ صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ملاقات کی۔ حماس کا مطالبہ تو سیدھا سادا ہے کہ غزہ امن معاہدے اور امن بورڈ کے فیصلوں پر عمل کرایا جائے جسے اسرائیل پامال کررہا ہے وہ کسی عہد کو پورا کرنے پر آمادہ نہیں ہے، اپنی شرائط منوانے پر مصر ہے اور ڈکشنر نے بھی تو ہاں کہہ دی لہٰذا غزہ اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت رک نہیں رہی اور مسلمان ممالک (آٹھ) مل کر مذمت کے بیان سے گزارہ کررہے ہیں، جبکہ ایران اپنے مفادات کے لئے میدان میں کھڑا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ صورت حال ہمارے (پاکستان) کے لئے مشکل کا باعث ہے۔ امریکی اقدامات کے جواب میں ایران کی طرف سے جوابی حملوں سے مسلمان ممالک ہی متاثر ہو رہے ہیں، گو پاکستان حوصلے اور تدبیر کے ساتھ ان حالات سے عہدہ برآ ہو رہا ہے تاہم ایسا ہونا نظر آتا ہے کہ بات پھر سے عرب و عجم والی ہو جائے گی کہ کاتب تقدیر کا لکھا اور حضورؐ کا فرمایا ہم بھول چکے ہیں۔

لکھنا تو خود اپنے ملکی حالات ہی کے بارے میں ہے لیکن انہی حالات میں یہ سب بھی ہمارے ہی لئے اہم تر ہے، اس لئے یہ ذکر کرنا پڑا، خود ہمارے حالات معتبر صحافی سہیل وڑائچ کے تجزیئے کے حوالے سے بنتے جا رہے ہیں انہوں نے جولائی کا ذکر کیا تھا تاہم ایک آسٹرولوجسٹ (قاسم چودھری) نے اپنے چینل اور سوشل میڈیا کے حوالے سے بتایا تھا کہ اگست کے بعد حکومت کیلئےمشکل دور شروع ہوگا اور مسائل بڑھتے جائیں گے جبکہ بانی کو ریلیف ملے گی، یہ کہا گیا پورا ہوتا ہے یا نہیں لیکن تمام تر توقعات، امیدوں اور خواہشات کے باوجود ہمارے اندرونی حالات سنبھل نہیں پا رہے، حتیٰ کہ اب گندم بھی درآمدکرنا پڑ رہی ہے انتظامیہ کے کل پرزے نئی نئی اختراع کے ذریعے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی حرکت کا مظاہرہ کررہے ہیں، دلچسپ اور دکھ والی صورت حال یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کے مطالبے پر دھرنے دے رکھے ہیں اور انہی دھرنوں کے دوران حکومت نے تیسری مرتبہ نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، قدرت بھی نامہربان ہے اور مون سون باعث آزار بن گیا ہے، پورے ملک میں مسلسل نقصان ہو رہا ہے جرائم میں اضافہ ہو گیا،خون سفید ہو چکے ہیں شہری خو دکو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

اب انہی حالات میں سیاست بھی اپنا رخ بدل رہی ہے۔ ملک میں ایک بار پھر نئے صوبوں کی بحث شروع ہو چکی اور اب زور بھی پکڑ رہی ہے، اسی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر 28ویں ترمیم کا ذکر شروع ہے بلکہ یہ تک ہو گیا کہ اس میڈیا پر باقاعدہ ایک ایسا مسودہ مشتہر کیا گیا ہے جسے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کہتے ہیں، اسے نظر انداز کرنے کے باوجود پڑھاگیا تو صاف ظاہر ہوگیا کہ جاری کرنے والوں کی خواہش کیا ہے کہ اس کے ذریعے کئی نشانے لگائے گئے ہیں۔ صدر زرداری کو ٹارگٹ کیا گیا اور تشہیر کردہ مسودہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب صدارتی نظام کے حامیوں کا کیا دھراہے اور اسے ماسوا پروپیگنڈے کے اور کوئی اہمیت نہیں دی جانا چاہیے تاہم یہ تو امر واقعہ ہے کہ حالات اچھے نہیں ہیں اور انہی حالات میں نئے صوبوں کے قیام کا چرچا ہے۔

مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں انتظامی طور پر چھوٹے یونٹوں کا مقصد اگر نچلی سطح پر مسائل کا حل اور عوامی مفادات کا تحفظ ہے تو پھر کوئی حرج بھی نہیں، لیکن جو حضرات اس کے داعی ہیں، وہ اصرار کرکے کہہ رہے ہیں کہ اس سے اخراجات میں بھی کمی ہوگی لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی جا رہی، میرے خیال میں یہ لازم ہے کہ اگر ڈویژنوں پر مشتمل 34صوبے بنانا ہیں تو پھر یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان صوبوں کا انتظامی ڈھانچہ کیا ہوگا اگر تو یہ صوبے موجودہ آئین ہی کے تحت بننا ہیں تو پھر اخراجات کم نہیں ہوں گے اور 34گنا بڑھ جائیں گے کہ ہر صوبے کے لئے گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ اور اسمبلیاں بھی ہوں گی چاہے ان کا تناسب موجودہ اسمبلی کے حساب ہی سے کیوں نہ رکھا جائے۔ اس لئے اخراجات کم کرنے والی دلیل سے اتفاق مشکل ہے البتہ اگر یہ انتظامی صوبے میاں محمود علی قصوری (مرحوم) کی تجویز کے مطابق ہر ڈویژن صوبہ اور اس کا ایک لیفٹیننٹ گورنر، وزیراعلیٰ اور چار وزراء ہونگے لیکن یہاں کوئی وضاحت نہیں کی جا رہی اسی سے شبہ ہوتا ہے کہ جو مسودہ سوشل میڈیا پر مشتہر ہے بات کچھ ویسی ہے کہ صدارتی نظام کا چرچا ہوتا رہا ہے اور اس مسودہ میں صدارتی اختیارات بڑھائے گئے ہیں اور یہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہوں گے۔

اب اگر ملکی سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ مشکل تر ہے کہ اب پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات میں دراڑ آ گئی ہے اگرچہ صدارتی محل کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو چکا لیکن بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی کے کثیر رہنما اس پر رضامند نہیں ہیں اور اگر روایتی گٹھ جوڑ اور توڑ پھوڑ والا معاملہ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہوں گے کہ بعض وڈیرے قسم کے حضرات ٹوٹ جائیں گے تو باقی ماندہ پیپلزپارٹی پھر جدوجہد والی پارٹی بن جائے گی اس لئے ضروری امر یہ ہے کہ بات کہی نہ جائے اس پر عمل کیا جائے اور ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات کو سدھارنے کیلئےمکمل یکجہتی پیدا کی جائے اور تمام سیاسی عناصر مل کر باہمی مشاورت سے فیصلے کریں۔