مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور

سری نگر (انڈین ایکسپریس) مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان کے واک آؤٹ کے دوران خطے کی مکمل ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں بھارتی حکومت سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد پر بحث کے دوران بی جے پی ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں نعرے بازی کی۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق بی جے پی ارکان نے قرارداد کی زبان پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے حامی ہیں، تاہم قرارداد میں 5 اگست 2019 سے قبل کی آئینی حیثیت اور خصوصی حیثیت سے متعلق حوالوں پر انہیں اعتراض ہے۔

قرارداد کی منظوری کے موقع پر بی جے پی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اس سے قبل بی جے پی ارکان نے نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں احتجاج بھی کیا تھا۔

قرارداد میں 26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو جموں و کشمیر اسمبلی سے منظور ہونے والی سابقہ قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ بعض ارکان کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم میں آرٹیکل 370 اور 35 اے سمیت 2019 سے پہلے کی خصوصی آئینی ضمانتوں کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کیا گیا۔

عمر عبداللہ نے اسمبلی میں کہا کہ نئی قرارداد سابقہ قراردادوں کی جگہ نہیں لے رہی بلکہ حکومتِ بھارت سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔

بی جے پی کے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہا کہ ان کی جماعت ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہے، تاہم قرارداد میں استعمال کی گئی زبان اور سابقہ آئینی پوزیشن کے حوالوں کو بی جے پی نے ناقابل قبول قرار دیا۔