جالود میں 100 سے زائد اسرائیلی آبادکاروں کا دھاوا، التوباسی خاندان کے گھر نذر آتش

نابلس (رائٹرز، الجزیرہ) مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب گاؤں جالود میں 100 سے زائد اسرائیلی آبادکاروں نے دھاوا بول دیا، سڑکیں بند کردیں، فلسطینیوں کے گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگادی اور اسرائیلی فورسز پر پتھراؤ کیا۔

رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فورسز التوباسی خاندان کو تقریباً 2 ماہ کی بے دخلی کے بعد ان کے گھر واپس پہنچانے کے لیے لے کر گئی تھیں۔ خاندان کو جولائی میں اسرائیلی آبادکاروں کی مبینہ مسلسل ہراسانی اور تشدد کے بعد گھر چھوڑنا پڑا تھا۔

رپورٹس کے مطابق خاندان کے گھروں پر آبادکاروں نے قبضہ کرلیا تھا، تاہم اسرائیلی عدالت کے حکم کے بعد حکام نے خاندان کی واپسی کے لیے انتظام کیا۔ خاندان کے گھر پہنچنے کے چند ہی منٹ بعد 100 سے زائد آبادکار وہاں پہنچ گئے اور واپسی کی کارروائی روک دی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق آبادکاروں نے سڑکیں بند کیں، ٹائر جلائے، فلسطینی گھروں، گاڑیوں اور دیگر املاک کو آگ لگائی اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔ واقعے میں سرحدی پولیس کے 3 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تشدد کے باعث التوباسی خاندان کو گھروں میں واپس پہنچانے کا مشن مکمل نہیں ہوسکا۔ فورسز نے ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کی کوشش کی اور 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے شواہد جمع کیے جارہے ہیں۔

الجزیرہ اور فلسطینی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے التوباسی خاندان کے 2 گھروں کو آگ لگائی، جس سے گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ خاندان کو دوبارہ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے آبادکاروں کے تشدد کو سنگین واقعہ، قانون کی حکمرانی پر حملہ اور اخلاقی داغ قرار دیا۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

التوباسی خاندان کو جولائی میں آبادکاروں کے حملوں اور ہراسانی کے بعد اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔ رواں ماہ اسرائیلی عدالت نے حکام کو خاندان کو ان کے گھر واپس پہنچانے اور وہاں موجود آبادکاروں کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔