ممتا بنرجی کے استعفے سے انکار کے بعد مغربی بنگال اسمبلی تحلیل

کولکتہ(ایجنسیاں)مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے استعفے سے انکار کے بعد ریاست کے گورنر آر این روی نے مغربی بنگال اسمبلی تحلیل کر دی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسمبلی کی آئینی مدت جمعرات کی رات ختم ہونا تھی، تاہم راج بھون کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے خط میں اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

خط میں کہا گیا کہ ’’آئینِ ہند کے آرٹیکل 174 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے مغربی بنگال کی قانون ساز اسمبلی کو 7 مئی 2026 سے تحلیل کیا جاتا ہے۔‘‘بھارتی آئین کے مطابق اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے پر تحلیل ہو جاتی ہے اور موجودہ کابینہ نگران حیثیت میں امور انجام دے سکتی ہے، تاہم اس بار انتخابی نتائج پر تنازع اور ممتا بنرجی کے استعفے سے انکار نے صورتحال کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔

حالیہ ریاستی انتخابات میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھاری اکثریت حاصل کی ہے جبکہ نئی کابینہ کی حلف برداری ہفتے کو متوقع ہے۔دوسری جانب ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کا مینڈیٹ ’’لوٹ مار‘‘ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نہیں ہاری، اس لیے استعفیٰ نہیں دوں گی۔‘‘ترنمول کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج کرے گی جبکہ بی جے پی رہنماؤں نے ممتا بنرجی کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔