تہران(امریکی نشریاتی ادارہ، بین الاقوامی میڈیا)ایران کے رہبرِ معظم کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے منجمد اثاثے بحال کر کے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کر سکتے ہیں۔
ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ 24 ارب ڈالر کی رقم امریکا کیلئےکوئی بڑی رقم نہیں، یہ ایران کا اپنا سرمایہ ہے اور اسے واپس کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے امریکا پر سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ سفارت کاری میں متعدد بار بدعہدی کی ہے۔محسن رضائی کا کہنا تھا کہ امریکا یا تو سخت ردِعمل کا سامنا کرے گا یا پھر ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے جون 2025 اور رواں سال فروری میں ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے ایک روز قبل بحری ناکہ بندی نافذ کر کے بھی مذاکراتی عمل کو متاثر کیا گیا۔
ایرانی رہنما کے مشیر نے کہا کہ واشنگٹن دعویٰ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے پر ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی، حالانکہ آبنائے ہرمز اس وقت بھی تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی شرط ہے تو امریکا فوری طور پر ناکہ بندی کیوں ختم نہیں کرتا۔

