انقرہ(رائٹرز، ترک میڈیا)ترک اور عالمی میڈیا کے مطابق ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے مشترکہ سیکریٹریٹ کی ابتدائی تین سالہ سربراہی پاکستان کو ملے گی، جس کے بعد یہ ذمہ داری سعودی عرب اور ترکیہ کو منتقل ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق سیکریٹریٹ تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سیاسی و عسکری رابطوں، معاہدے پر عمل درآمد اور مشترکہ دفاعی تعاون کو مربوط رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ تاہم اس مخصوص تین سالہ سربراہی کی تفصیل کی آزادانہ طور پر سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق معاہدے کے تحت وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور مسلح افواج کے سربراہان پر مشتمل اعلیٰ سطح کے سیاسی و عسکری رابطہ نظام قائم کیا جائے گا، جبکہ تینوں ممالک کے درمیان رابطہ اعلیٰ ترین سطح پر برقرار رکھا جائے گا۔
معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جسے بعض حوالوں میں نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثل اجتماعی دفاعی اصول قرار دیا گیا ہے۔ تاہم معاہدے کے تحت ردعمل کی نوعیت ہر صورتحال کے مطابق طے کی جائے گی اور اسے کسی ایک مخصوص طرز کی فوجی کارروائی تک محدود نہیں کیا گیا۔
ترک وزارتِ دفاع کے مطابق تینوں ممالک کے بری، بحری اور فضائی دستوں کے علاوہ فضائی دفاع اور بغیر پائلٹ نظاموں کے شعبوں میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی جائیں گی۔ دفاعی صنعت میں مشترکہ ترقی، پیداوار، ٹیکنالوجی تعاون، دیکھ بھال اور لاجسٹک معاونت کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بغیر پائلٹ اور خودکار نظام، الیکٹرانک جنگ اور مصنوعی ذہانت کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔
ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی موجودہ اتحاد یا شراکت داری کا متبادل نہیں اور اسے مزید ممالک تک وسعت دی جاسکتی ہے، جبکہ مصر کو ممکنہ مستقبل کے شراکت دار کے طور پر بھی زیرِ غور بتایا گیا ہے۔
پاکستان کے لیے ابتدائی سربراہی علاقائی دفاعی سفارت کاری میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اسلام آباد اور ریاض کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعاون کو ترکیہ کے ساتھ سہ فریقی سطح تک وسعت دی گئی ہے۔

