نئی دہلی:بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کی’کاکروچ‘ تبصرے پر وضاحت

نئی دہلی (پی ٹی آئی)بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت نے ’کاکروچ‘ سے متعلق اپنے متنازع تبصرے کی ایک بار پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دیے گئے ان کے زبانی ریمارکس کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور بعدازاں بدنیتی کے ساتھ استعمال کرکے ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

ڈی ڈی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں چیف جسٹس سوریا کانت نے عدالت کی کارروائی کے مختصر ویڈیو کلپس سیاق و سباق کے بغیر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نشر کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ریمارکس کو غلط انداز میں نقل کیا گیا، جو بات کہی ہی نہیں گئی اسے اس طرح پیش کیا گیا جیسے وہ کہی گئی ہو۔ چیف جسٹس نے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالخصوص ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی ایک بڑی بدنیتی پر مبنی کوشش کی گئی۔

سوریا کانت نے کہا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو اپنے آئینی حقوق کے ساتھ ذمہ داریوں اور فرائض کا بھی احساس ہونا چاہیے، کیونکہ حقوق کی بات کرتے ہوئے فرائض ادا کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرتی ہم آہنگی کے قیام کیلئےانتھک کوششیں کرنی چاہئیں۔

بھارتی چیف جسٹس نے عدالت کی کارروائی کی براہ راست نشر کی جانے والی ویڈیوز کے حوالے سے بھی کہا کہ عدلیہ میں شفافیت ضروری ہے اور اسی مقصد کے لیے سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا، تاہم عدالت کی کارروائی کے ویڈیو اور آڈیو کلپس کا غلط یا تجارتی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ 15 مئی 2026 کو سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے جعلی یا غیر تسلیم شدہ ڈگریوں کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں داخل ہونے والے بعض افراد کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی تھی۔ ان ریمارکس کو بعض حلقوں نے بے روزگار نوجوانوں کے خلاف تبصرے کے طور پر پیش کیا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

بعدازاں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک طنزیہ آن لائن تحریک بھی سامنے آئی، جس نے بعد میں نئی دہلی میں نیٹ یو جی امتحانی پرچے کے مبینہ لیک کے خلاف احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کرلی۔

رواں سال 20 جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، جبکہ اس تحریک سے وابستہ احتجاج کے بعد بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا تھا۔