نظام چلانے والے لوگ اسے اچھا یا برا بناتے ہیں: ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ملٹن (اشرف خان لودھی سے) شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ملٹن میں میئر کی امیدوار زینب عظیم کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی صورتحال، نظام حکومت، فلسطین کے دو ریاستی حل، مسلم دنیا کی صورتحال اور کسی ملک کو دہشتگرد قرار دینے کے اختیار سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کو چھوڑ کر دنیا کے کسی بھی ملک کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دو ممالک کے حوالے سے سوال نہ کیا جائے جبکہ باقی دنیا کے بارے میں جو چاہیں سوال کیے جاسکتے ہیں۔

بعد ازاں جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی نے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے درخواست کی کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بھی انہیں ضرور اظہار خیال کرنا چاہیے کیونکہ وہ پاکستان کے سیاسی نظام میں بھی رہ چکے ہیں اور ایک عالم دین کی حیثیت سے بھی طویل عرصے سے ملک کے معاملات پر بات کرتے رہے ہیں۔

اشرف خان لودھی نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بیان پاکستان میں زیرِ بحث رہا اور اسے سراہا بھی گیا، اسلئے موجودہ حالات کے حوالے سے ان کی رائے جاننا ضروری ہے۔

جواب میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ انہوں نے ساری زندگی پاکستان کے بارے میں بات کی ہے، وہ اپنی بات بتا اور سنا سکتے ہیں لیکن کوئی شخص اسے قبول کرے یا نہ کرے، یہ اس کے اپنے اختیار میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کوئی بات مخفی نہیں چھوڑی اور ان کے بیانات مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان کے کسی شعبے کو نظرانداز نہیں کیا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ نظام وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن تبدیلیاں اس وقت مؤثر ہوتی ہیں جب اچھے لوگوں کو نظام چلانے کی ذمہ داری دی جائے۔ اگر ایک اچھا نظام بنا کر اسے نااہل اور برے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو پھر وہی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں جو پہلے خراب نظام میں موجود تھیں۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات نظام بذات خود اتنا برا نہیں ہوتا بلکہ اسے چلانے والے لوگ اسے اچھا یا برا بناتے ہیں۔

دنیا ٹی وی پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی محبوب شیخ نے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری سے فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ میں زیرِ بحث دو ریاستی حل کے بارے میں سوال کیا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ دو ریاستی حل کی بات شروع ہی سے کی جاتی رہی ہے اور وہ خود بھی تقریباً 40 سال سے اس حوالے سے بات کرتے آئے ہیں۔مسلم دنیا کی صورتحال کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہامسلم دنیا اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے اور بدقسمتی سے وہ اس مقام پر نہیں جہاں اسے ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا آزاد نہیں بلکہ نفسیاتی، سیاسی اور معاشی غلامی کی حالت میں ہے۔

ان کے مطابق غلامی کی زندگی گزارنے والے لوگ آزاد قوموں یا آزاد افراد کی طرح عمل نہیں کرسکتے، اسلئے انہیں پہلے اس کیفیت سے نکلنا ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو دہشتگرد ملک قرار دینے سے متعلق بیان کے بارے میں سوال پر ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے صدر یا وزیراعظم کو یہ حق نہیں کہ وہ دنیا کے کسی دوسرے ملک کو دہشتگرد ملک قرار دے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کا سربراہ کسی دوسرے ملک یا کسی فرد کو دہشتگرد قرار دے تو یہ بین الاقوامی قانون کا معیار نہیں۔ ان کے مطابق کسی ریاست کو دہشتگرد ریاست قرار دینے کا اختیار اقوام متحدہ سے متعلق ہے۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے طالب علم رہے ہیں اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں ایک سال تک بین الاقوامی قانون پڑھاتے بھی رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی فرد یا گروہ کو کسی ملک کے اندر دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے تو یہ متعلقہ ریاست کا اختیار ہوتا ہے، لیکن جب کسی ریاست یا ملک کو دہشتگرد قرار دینے کی بات ہو تو یہ کسی ایک ملک کا اختیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ کا دائرہ اختیار ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اقوام متحدہ اسی مقصد کیلئے قائم کیا گیا ہے اور اگر اس نوعیت کے معاملات میں اختیار اقوام متحدہ کے پاس رہے تو دنیا میں امن اور استحکام کے امکانات زیادہ ہوں گے۔