تل ابیب (بین الاقوامی میڈیا) اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے اہم امیدوار گادی آئزنکوٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی ممکنہ کامیابی کی ایک اہم وجہ یہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ وہ نیتن یاہو کے متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں، جبکہ اسرائیل کی تاریخ میں اب تک کوئی مزراحی یہودی وزیراعظم نہیں بن سکا۔
گادی آئزنکوٹ کی انتخابی مہم اس وقت سیاسی تنازع کا شکار ہوگئی جب اسرائیلی ٹی وی کے معروف میزبان اور نیتن یاہو کے حامی سمجھے جانے والے ینون میگال نے ان پر نسلی بنیادوں پر تنقید کی۔ ینون میگال نے آئزنکوٹ کو ’’بندر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے مراکشی مزراحی پس منظر اور اشکنازی اشرافیہ سے تعلق کا حوالہ دیا۔ اس بیان پر اسرائیل کے سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
66 سالہ گادی آئزنکوٹ مراکش سے اسرائیل ہجرت کرنے والے والدین کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ 9 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور پانچ بچوں کے والد ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسرائیلی فوج میں گزارا اور تقریباً 40 سالہ فوجی خدمات کے بعد 2015 سے 2019 تک اسرائیلی فوج کے سربراہ رہے۔
آئزنکوٹ نے 1978 میں گولانی بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا بچپن طبریہ اور ایلات جیسے شہروں میں گزرا، جو اسرائیل کے سیاسی طاقت کے مراکز سے دور واقع ہیں۔ ان کا خاندانی اور سماجی پس منظر نیتن یاہو سے مختلف ہے، جن کی پرورش یروشلم کے بااثر سیاسی ماحول میں ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئزنکوٹ کا مزراحی پس منظر ان کی انتخابی مقبولیت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ مزراحی یہودیوں سے مراد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والی یہودی برادریاں ہیں، جبکہ اشکنازی یہودیوں کی تاریخی جڑیں یورپ میں ہیں۔ اسرائیل میں ان دونوں برادریوں کے درمیان سماجی اور معاشی عدم مساوات ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔
آئزنکوٹ نے 2022 میں سابق آرمی چیف بینی گینٹز کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد دونوں رہنما نیتن یاہو کی ہنگامی جنگی کابینہ میں شامل ہوگئے، تاہم جنگ کے بعد کی حکمت عملی واضح نہ ہونے پر انہوں نے جون 2024 میں کابینہ چھوڑ دی۔
فوجی سربراہ کی حیثیت سے آئزنکوٹ کو ایک متنازع معاملے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 2016 میں اسرائیلی فوجی ایلور عزاریہ نے الخلیل میں ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ دائیں بازو کے سیاست دانوں، جن میں نیتن یاہو بھی شامل تھے، کے دباؤ کے باوجود آئزنکوٹ نے فوجی تحقیقات اور مقدمے کی حمایت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ فوج کے نظم و ضبط اور اخلاقی اصولوں کا تحفظ ضروری ہے۔
غزہ جنگ نے آئزنکوٹ کے خاندان کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ دسمبر 2023 میں ان کا 25 سالہ سب سے چھوٹا بیٹا گال غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوگیا، جبکہ ان کے دو بھتیجے بھی جنگ میں مارے گئے۔
ایک سال قبل تک انتخابی جائزوں میں آئزنکوٹ کی حمایت ایک ہندسے تک محدود تھی، تاہم اب وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے نمایاں ترین امیدواروں میں شمار ہوتے ہیں۔
اگر گادی آئزنکوٹ 27 اکتوبر کے انتخابات میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اسرائیل کو اپنی تاریخ کا پہلا مزراحی وزیراعظم مل سکتا ہے۔ ان کی انتخابی مہم کے نتائج نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل بلکہ اسرائیل میں نسلی نمائندگی اور سماجی مساوات کی بحث کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

