ٹورنٹو (سی بی سی) کینیڈا کے کاروباری رہنماؤں اور سیاست دانوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کینیڈا کیلئے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ نئے معاشی تعلقات قائم کرنے کا موقع بن سکتی ہے۔
کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ کے آغاز پر دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے نمائندے ٹورنٹو پہنچ گئے ہیں، جہاں انہیں کینیڈا میں سرمایہ کاری کیلئے تیار بڑے منصوبوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی کی قیادت میں ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں دنیا کے ایسے سرمایہ کار شریک ہیں جو کھربوں ڈالر کے سرمائے کا انتظام کرتے ہیں۔ اجلاس کے دوران کینیڈا کے توانائی، کان کنی، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں میں بڑے منصوبے سرمایہ کاری کیلئے پیش کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں پیر کی شب اونٹاریو آرٹ گیلری میں عشائیہ، معروف کینیڈین کاروباری شخصیات کے خطابات اور سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کے اختتامی کلمات بھی شامل ہیں۔شرکا میں بارکلیز کے چیف ایگزیکٹو سی ایس وینکٹاکرشنن، بلیک اسٹون کے صدر اور چیف ایگزیکٹو جون گرے، سی آئی بی سی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ہیری کلم اور اوپن اے آئی کے ممالک کیلئے سربراہ جارج اوسبورن سمیت عالمی کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
کینیڈین کاروباری کونسل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو گولڈی حیدر نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کار کینیڈا کو سرمایہ کاری کیلئے ہمیشہ بہترین مقام نہیں سمجھتے تھے، تاہم اب یہ سوچ تبدیل ہورہی ہے۔گولڈی حیدر نے کہا، ’’اس وقت کینیڈین ہونا واقعی باعثِ فخر ہے، جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی وہ کینیڈا کے بارے میں جو کچھ سن اور دیکھ رہے ہیں اس پر پرجوش ہیں۔‘‘
کینیڈا کی حکومت نے بڑے منصوبوں کیلئے سرمایہ کاروں کو مزید یقین دہانی کرانے کیلئے بھی اقدامات کیے ہیں۔ وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شامپین نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈین ریونیو ایجنسی ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کیلئے آمدنی ٹیکس سے متعلق پیشگی فیصلوں کو ترجیح دے گی۔حکومت کے مطابق اس پروگرام کے تحت سرمایہ کار کسی بڑے منصوبے میں رقم لگانے سے پہلے یہ جان سکیں گے کہ مجوزہ سرمایہ کاری پر ٹیکس قوانین کس طرح لاگو ہوں گے، جس سے سرمایہ کاری کا خطرہ کم ہوگا۔
کاروباری رہنماؤں کے مطابق گزشتہ برسوں میں بڑے منصوبوں کی منظوری میں طویل عرصہ لگنے اور منصوبوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں کینیڈا کی ساکھ کو متاثر کیا تھا۔عالمی سرمایہ کاروں کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کینیڈا سیاسی اور معاشی استحکام کے لحاظ سے بلند مقام رکھتا ہے، تاہم ضابطوں کی پیچیدگی اور اجازت ناموں کے حصول میں لگنے والا وقت خصوصاً توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کیلئے بڑی تشویش کا باعث رہا ہے۔
کینیڈا نکل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک سیلبی نے بتایا کہ اجازت ناموں کے عمل میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ان کی کمپنی کو کرافورڈ نکل منصوبے کیلئے اہم وفاقی اجازت نامے پہلے کے مقابلے میں تقریباً نصف وقت میں مل گئے۔سمٹ کیلئے تیار کی گئی 66 صفحات پر مشتمل دستاویز میں 160 سے زیادہ منصوبوں کو سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا گیا ہے، جن میں 11 منصوبے فوری تعمیر کیلئے تیار جبکہ تقریباً دو درجن منصوبے ترقی کے جدید مرحلے میں ہیں۔
ٹی ڈی سیکیورٹیز کے نائب چیئرمین اور امریکا میں کینیڈا کے سابق سفیر فرینک مک کینا نے کہا کہ بہت سے منصوبے سرمایہ کاری کیلئے مکمل طور پر تیار مواقع ہیں۔ان کے مطابق امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے باعث کینیڈا کو غیر مستحکم سمجھنے کے بجائے عالمی صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اسی معاشی تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا دیگر ممالک کیلئے متبادل سرمایہ کاری کا موقع پیش کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی اور استحکام رکھنے والا ملک ہونے کے باعث سرمایہ کاری کیلئے پرکشش متبادل ہے۔تاہم بڑے منصوبوں کیلئے فوری طور پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کینیڈا نکل کمپنی کے کرافورڈ کان کنی منصوبے کیلئے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے، تاہم مارک سیلبی کا کہنا ہے کہ انہیں توقع نہیں کہ دو روزہ اجلاس کے اختتام پر یہ رقم فوری طور پر حاصل ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر صنعت میلانی جولی نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے نتیجے میں اچھے معاہدے اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے وعدوں پر مشتمل مفاہمتی یادداشتیں سامنے آئیں گی، تاہم ان کے مکمل اثرات چند ماہ بعد ہی واضح ہوں گے۔نیو برنزوک کی وزیرِاعلیٰ سوزن ہولٹ نے سرمایہ کاری اجلاس میں ہونے والی ملاقاتوں کو ’’پہلی ملاقات‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر دونوں فریق ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مستقبل کے معاہدوں کیلئے مزید ملاقاتیں کامیابی کی اصل علامت ہوں گی۔

