ٹرمپ کو کینیڈا سے چند ہفتوں میں تجارتی معاہدے کی امید، درآمدی پابندیاں آج سےنافذ

واشنگٹن(کینیڈین پریس، رائٹرز، گلوبل نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ کینیڈا آئندہ 3 سے 4 ہفتوں میں امریکا سے رابطہ کریگا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا جائیگا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کینیڈا کے ساتھ معاہدہ ہوجائے گا، تاہم ان کے بقول یہ معاہدہ منصفانہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی اختلافات کے حوالے سے کہا کہ امریکا اس معاملے میں اپنے مفادات حاصل کرے گا۔

دوسری جانب کینیڈا کی وزیرِ تجارت ڈومینک لی بلانک کے دفتر نے کہا ہے کہ حکومت امریکا کی جانب سے پہلے سے اعلان کردہ تجارتی اقدامات کے نافذ ہونے کا نوٹس لے رہی ہے۔ وزیرِ تجارت کے ترجمان گیبریئل برونے نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح کینیڈین کارکنوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کا تحفظ ہے۔

امریکا کی جانب سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر درآمدی پابندیاں 29 ستمبر کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 1 منٹ سے نافذ ہوں گی۔ پابندیوں میں بعض الکحل مصنوعات، دودھ سے بننے والی کچھ مصنوعات اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔

یہ پابندیاں امریکا اور کینیڈا کے درمیان گزشتہ ماہ تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کشیدگی میں تازہ اضافہ ہیں۔ دونوں ممالک نے مذاکرات کے خاتمے کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا کینیڈا کے ساتھ موجودہ تجارتی صورتِ حال سے مطمئن ہے اور واشنگٹن کی جانب سے کسی فوری معاہدے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔

ادھر وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی مذاکرات کاروں پر کینیڈا کی دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے اور زبان و ثقافت کے تحفظ سے متعلق کینیڈین پالیسیوں میں مداخلت کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔

تجارتی تنازع کے دوران امریکا نے اگست میں کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات نافذ کیے۔ امریکی حکومت نے بعد ازاں کینیڈا کی بعض مصنوعات پر درآمدی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی تجارتی نمائندے کے مطابق یہ اقدامات امریکی تجارت کے خلاف کینیڈا کی مبینہ امتیازی پالیسیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

تجارتی پالیسی کے ماہر الفریڈو کاریلو اوبریگن کے مطابق نئی پابندیوں سے مجموعی طور پر کینیڈین معیشت پر فوری اثر محدود ہوسکتا ہے، تاہم یہ اقدامات امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہیں۔

کینیڈا امریکا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کی معیشتیں گہرے تجارتی اور صنعتی روابط میں منسلک ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی نئے تجارتی معاہدے کے لیے دونوں جانب سے ایسے معاملات پر سمجھوتا درکار ہوگا جن پر دونوں حکومتیں پہلے ہی اپنے اپنے مؤقف واضح کرچکی ہیں۔

کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 10 فیصد اضافی محصولات بھی عائد ہیں جنہیں امریکی حکومت رسدی سلسلوں میں جبری مشقت سے متعلق قرار دیتی ہے، تاہم کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے تجارتی معاہدے کی شرائط پر پورا اترنے والی مصنوعات ان محصولات سے مستثنیٰ ہیں۔

اس کے علاوہ کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور بعض دیگر صنعتی شعبوں کو بھی امریکا کے علیحدہ شعبہ جاتی محصولات کا سامنا ہے۔