ٹرمپ کی ایران کو نطنز کے قریب ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی، لبنان سے تعاون بڑھانے کا اعلان

واشنگٹن (وائٹ ہاؤس، رائٹرز، اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے نطنز کے قریب پہاڑی علاقے میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی جلد ہو سکتی ہے اور ایران اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکے گا۔

وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، امریکہ بھی اس سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا، اگرچہ ایران دوبارہ مذاکرات اور معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے لبنان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس ملک کے ساتھ مناسب طرزِ عمل اختیار نہیں کیا گیا، تاہم امریکہ اب لبنان کے ساتھ احترام اور تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دے گا۔ ان کے بقول لبنان کئی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور امریکہ اس کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر لبنان کے صدر چاہیں تو وہ حزب اللہ سے بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابراہیمی معاہدوں نے مثبت نتائج دیے ہیں اور مستقبل میں مزید ممالک ان معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے نطنز کے قریب واقع پہاڑی علاقے کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جلد کی جا سکتی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ علاقہ ایران کی نطنز جوہری تنصیبات کے نزدیک واقع ہے۔

اس موقع پر لبنان کے صدر نے اسرائیل کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر امریکی کردار کو سراہتے ہوئے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور اسرائیل کے ساتھ دیرینہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔