شنگھائی(چائنا میڈیا گروپ، ینگتسے ایوننگ نیوز)چین میں ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ایک کمپنی نے اپنی خاتون ملازمہ کو صرف اس بنیاد پر نوکری سے نکال کر غیر قانونی اقدام کیا کہ اس کے شوہر کی ایک حریف کمپنی میں ملازمت تھی۔
شنگھائی کے ژوہوئی ڈسٹرکٹ پیپلز کورٹ نے کمپنی کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ خاتون کو 6 لاکھ 90 ہزار یوآن (تقریباً 1 لاکھ 1 ہزار امریکی ڈالر) بطور معاوضہ ادا کرے۔تفصیلات کے مطابق لیو نامی خاتون 2006 سے اس کمپنی میں ملازمت کر رہی تھیں۔ 2023 کے آخر میں کمپنی نے ان کا معاہدہ یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ان کے شوہر ایک حریف کمپنی میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرتے ہیں، جس سے کمپنی کو “نقصان کا خدشہ” ہے۔
خاتون نے اس فیصلے کے خلاف لیبر ثالثی عدالت سے رجوع کیا، جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کمپنی کو 6 لاکھ 80 ہزار یوآن تنخواہ کی مد میں اور 10 ہزار یوآن غیر استعمال شدہ چھٹیوں کے عوض ادا کرنے کا حکم دیا۔
کمپنی نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ خاتون کے پاس حساس معلومات تک رسائی تھی اور ان کے شوہر حریف کمپنی سے منسلک ہو سکتے ہیں۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی کہ خاتون نے کسی قسم کی خفیہ معلومات اپنے شوہر کو دی ہوں یا کمپنی کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہو۔
عدالت نے مزید کہا کہ ایک ہی شعبے میں کام کرنے والے میاں بیوی عام بات ہے، اور لیبر قوانین کے مطابق نان کمپٹیشن شق صرف مخصوص عہدوں اور تحریری معاہدے کی صورت میں لاگو ہوتی ہے۔یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں کچھ صارفین کمپنی کے مؤقف سے اتفاق کرتے دکھائی دیے جبکہ دیگر نے اسے غیر منصفانہ برطرفی قرار دیتے ہوئے معاوضے کے فیصلے کو درست کہا۔

