ڈرون حملوں کے خطرے پر ماسکو کے ہوائی اڈوں پر بار بار پابندیاں، فضائی آپریشن جزوی طور پر بحال

ماسکو (ایجنسیاں)روسی دارالحکومت ماسکو میں یوکرینی ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث 23 اکتوبر کو شہر کے چاروں بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمد و رفت کئی مرتبہ معطل ہونے کے بعد دوبارہ بحال کردی گئی، تاہم فضائی آپریشن مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکا۔

روس کی وفاقی فضائی ٹرانسپورٹ ایجنسی روساویاتسیا کی تازہ دستیاب اطلاع کے مطابق شیریمیتوا اور ژوکوفسکی ہوائی اڈوں پر عائد عارضی پابندیاں ختم کردی گئی ہیں، جبکہ ونوکووو اور دومودیدوو میں متعلقہ حکام سے رابطے اور اجازت کے تحت پروازیں وصول اور روانہ کی جارہی ہیں۔

اس دوران دبئی سے ماسکو جانے والی ایمریٹس کی پرواز ای کے 133 کو ڈومودیڈوو ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہیں ملی۔ پرواز میں دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ ایئربس اے 380 استعمال کیا جارہا تھا، جسے فضا میں تقریباً 2 گھنٹے تک انتظار کرتے ہوئے چکر لگانے پڑے۔

اطلاعات کے مطابق طیارے کو 2 گھنٹے فضا میں رکھنے کے دوران تقریباً 28 ہزار لیٹر ایندھن استعمال ہوا، جس سے فضائی کمپنی کو ایک پرواز پر تقریباً ایک کروڑ روپے کا اضافی خرچہ برداشت کرنا پڑا۔

جمعہ 23 اکتوبر کو ماسکو کے چاروں ہوائی اڈوں پر پہلے پروازوں کی آمد و رفت محدود کی گئی، تاہم چند گھنٹوں بعد پابندیاں اٹھالی گئیں۔ شام کے وقت ڈرون حملوں کے نئے خطرے کے پیش نظر چاروں ہوائی اڈوں پر دوبارہ عارضی پابندیاں نافذ کرنا پڑیں۔

شیریمیتوا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملے کا انتباہ جاری ہونے کے بعد مسافروں کو حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ ٹرمینل کے مخصوص حصوں تک رسائی بھی محدود کردی گئی۔ بعد ازاں فضائی حملے کا انتباہ ختم کردیا گیا۔

فضائی پابندیوں کے باعث ماسکو آنے والی متعدد پروازوں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑنا پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکووو ہوائی اڈے نے ماسکو جانے والی 25 پروازیں وصول کیں، جبکہ نزنی نووگورود کے چکالوف ہوائی اڈے پر 13 پروازیں اتاری گئیں۔

پروازوں کی معطلی اور اوقات میں تبدیلی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ روسی فضائی کمپنیوں نے پروازوں کے نظام الاوقات میں ردوبدل کیا اور متاثرہ مسافروں کو اپنی پروازوں کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی۔

ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق 23 اکتوبر کو دارالحکومت کی جانب آنے والے 11 ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔ ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہوائی اڈوں پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیے گئے۔

روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ اور روساویاتسیا نے دارالحکومت کے فضائی آپریشنز کو خصوصی نگرانی میں رکھا، جبکہ مسافروں کو ہدایت کی گئی کہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے پہلے اپنی فضائی کمپنی یا ہوائی اڈے کے برقی نظام سے پرواز کی تازہ صورتحال معلوم کرلیں۔

تازہ دستیاب اطلاعات کے مطابق 23 اکتوبر کی شام شیریمیتوا اور ژوکوفسکی ہوائی اڈوں پر پابندیاں ختم کی جاچکی تھیں، جبکہ ونوکووو اور دومودیدوو میں پروازوں کی آمد و رفت متعلقہ حکام کی اجازت سے جاری تھی۔ حکام نے واضح کیا کہ صورتحال دوبارہ تبدیل ہوسکتی ہے، اسلئے تمام پروازوں کے معمول کے مطابق ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔