کراچی:عورت مارچ کارکنان کی مختصر حراست کے بعد رہائی

کراچی (نمائندہ خصوصی)کراچی میں پولیس نے معروف ایکٹویسٹ شیماکرمانی سمیت عورت مارچ کے 7 کارکنان کو مختصر حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔ رہائی سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی ہدایت پر عمل میں آئی۔

کارکنان کو کراچی پریس کلب کے قریب اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ شام 4 بجے پریس کانفرنس کیلئے جمع ہوئے تھے، جس کا مقصد کراچی میں ہونیوالے سالانہ عورت مارچ کیلئےاین او سی کا مطالبہ کرنا تھا۔

عورت مارچ کے منتظمین کے مطابق گرفتار ہونیوالوں میں شیما کرمانی اور شہزادی رائے بھی شامل تھیں، جنہیں بعد ازاں دیگر افراد کے ساتھ رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد عورت مارچ کراچی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور این او سی کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے جبکہ گرفتاریوں کو اختلافِ رائے دبانے کی کوشش قرار دیا گیا۔اس سے قبل تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ پریس کلب تک رسائی کو محدود کر دیا گیا اور کچھ کارکنان کو پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا۔

عورت مارچ کراچی کے مطابق اس سال مارچ 10 مئی کو سی ویو پر مدرز ڈے کے موقع پر منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ این او سی کیلئے حکام کو درخواست بھی دی جا چکی ہے۔دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ شہریوں کو اپنے حقوق کے اظہار کیلئے عوامی جگہوں سے محروم کرنے کے رجحان کا حصہ ہے۔

کمیشن نے کہا کہ پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی آئینی حقوق ہیں، اور خصوصاً خواتین و محروم طبقات کو ایسی سرگرمیوں سے روکنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ڈیجیٹل حقوق کی کارکن نگہت داد اور وکیل جبران ناصر نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت پُرامن کارکنان کو حراست میں لیا گیا اور پریس کانفرنس کو روکا گیا۔