پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری افتخار علی سہو کا شمار انتہائی قابل،اپ رائٹ اور میرٹ پر چلنے والے افسروں میں ہوتا ہے ،میں ذاتی طور پر بھی انکی انتظامی خوبیوں کا قائل ہوں، ابھی کینیڈا آنے سے قبل ، انفرمیشن گرو اور پیارے دوست راو تحسین علی خان کے ہمراہ ان سے ملاقات ہوئی تو سہو صاحب نے ان سے کہا ،گورایہ صاحب کینیڈا جا رہے ہیں تو وہاں کی بیوروکریسی کا ہمارے ساتھ موازنہ کریںگے ، انکی خوبیاں اور ہماری خامیاں لکھیں گے، حالانکہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہاں کی سہولتیں اور تنخواہیں ہم سے کتنی زیادہ ہیں ،پھر بھی ہم انتظامی میدان میں کسی سے کم نہیں ہیں،انکی بات میں کافی وزن ہے مگر کینیڈا میں انتظامی معاملات میں شفافیت اور پنجاب میں کرپشن کا بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ان دنوں پنجاب حکو مت ، کرپٹ افسروں اور انتظامی بدعنوانی کے خلاف گھیرا تنگ کر رہی ہے، گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور انکوائریاں جاری ہیں ، اینٹی کرپشن کو متحرک کیا گیا ہے ،یہ ایک اچھی علامت ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے ،کیا صرف کرپٹ افسروں کی گرفتاریاں کرپشن ختم کر سکتی ہیں؟اسی پس منظر میں کینیڈا کا نظام ہمارے لیے ایک دلچسپ تقابلی مثال بن جاتا ہے، کینیڈا بھی کوئی کرپشن سے پاک ملک نہیں، وہاں بھی سرکاری ٹھیکوں، مفادات کے ٹکراؤ اور اختیارات کے غلط استعمال کے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں،فرق یہ ہے کہ وہاں کرپشن کے خلاف نظام اس بات پر بھی توجہ دیتا ہے کہ کرپشن کا موقع ہی کم سے کم پیدا ہو،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اندیکس کے مطابق پچھلے سال کینیڈا کا سکور 75 جبکہ پاکستان کا 28تھا، یہ اعداد و شمار کسی ملک میں گرفتار ہونے والے کرپٹ افسروں کی تعداد سے نہیں بلکہ سرکاری شعبے میں کرپشن کے بارے میں عالمی اشاریوں کی پیمائش کے مطابق ہیں۔
پاکستان میں ایک عام شہری کو زمین کے انتقال، رجسٹری، پولیس کارروائی، تعمیراتی اجازت، لائسنس، این او سی، سرکاری ٹھیکے اور دیگر معاملات میں اکثر ایسے مقامات سے گزرنا پڑتا ہے جہاں ایک سرکاری اہلکار کا صوابدیدی اختیار شہری کے کام کو تیز یا سست کر سکتا ہے،یہی وہ مقام ہے جہاں کرپشن جنم لیتی ہے،جہاں اختیار زیادہ ہو، معلومات کم ہوں، فیصلہ کرنے کا طریقہ غیر واضح اور نگرانی کمزور ہو، وہاں غیر قانونی فائدے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،کینیڈا میں بھی سرکاری افسر کے پاس اختیار ہوتا ہے، مگر کوشش یہ کی جاتی ہے کہ اس اختیار کے استعمال کا ریکارڈ موجود ہو، فیصلے قواعد کے تحت ہوں، مفادات کا ٹکراؤ ظاہر کیا جائے تاکہ بعد میں کسی فیصلے کا آڈٹ ممکن ہو،یعنی وہاں زور صرف اس بات پر نہیں کہ “غلط کام کرنے والے کو پکڑو” بلکہ اس پر بھی ہے کہ “غلط کام کرنے کا راستہ بند کرو۔”
پنجاب میں ان دنوں یہ بحث بھی اہم ہے کہ افسروں کی پوسٹنگ ، ٹرانسفر کے معاملات میں سول سیکریٹریٹ اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کا کردار کیا ہونا چاہیے،میرے خیال میں بحث کا اصل مرکز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اختیار کس دفتر کے پاس ہے،اصل سوال یہ ہے کہ اختیار استعمال کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
کینیڈا کے وفاقی نظام میں تقر ر تبادلوں کے لیے میرٹ، شفافیت، یکساں سلوک اور سیاسی غیر جانب داری کے اصول موجود ہیں اور ایک کمیشن ان معاملات کی نگرانی کرتی ہے،پنجاب میں بھی اسی اصول کو مقامی حالات کے مطابق اپنایا جا سکتا ہے،پنجاب کے لیے ایک عملی راستہ یہ بھی ہے کہ اگر موجودہ کرپشن مخالف مہم کو ایک مستقل انتظامی اصلاح میں تبدیل کرنا ہے تو چند اقدامات خاص طور پر اہم ہو سکتے ہیں،سب سے پہلے پوسٹنگ ،ٹرانسفر کا مکمل ڈیجیٹل نظام بنایا جائے،ہر اہم افسر کی موجودہ پوسٹنگ، عرصہ تعیناتی، سابقہ پوسٹنگز، نئی تعیناتی اور تبادلے کی وجہ کا ریکارڈ بنایا جائے ، یہ نظام کسی وزیر، وزیراعلیٰ یا چیف سیکریٹری کا اختیار ختم نہیں کرے گا، بلکہ فیصلے کو شفاف بنا دے گا،دوسرا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ حساس محکموں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے،پولیس، محکمہ مال، بلدیاتی ادارے، تعمیرات، آبپاشی اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جائے،یہ دیکھا جائے کہ شکایات کہاں زیادہ ہیں اور سرکاری پیسہ کہاں زیادہ خرچ ہو رہا ہے،تیسرا اور شاید سب سے اہم میدان سرکاری ٹھیکے ہیں،پنجاب میں ای پروکیورمنٹ اور ای پیڈ کی بنیاد موجود ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے منصوبوں میں ٹینڈر سے لے کر ادئیگیوں تک پورا عمل آن لائن موجود ہو۔
مفادات کا ٹکراؤ بھی کرپشن کا دروازہ ہے، پنجاب میں اہم عہدوں پر تعینات افسران کے لیے ایسا نظام بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی افسر کے خاندان، کاروبار یا مالی مفادات کا تعلق کسی ایسے ادارے سے ہو جو اس کے محکمے کے فیصلے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تو افسر کو اس معاملے سے الگ ہونا چاہیے،کینیڈا میں اس کو باقاعدہ انتظامی مسئلہ سمجھا جاتا ہے،یہ ایک ایسا اصول ہے جسے پاکستان میں بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے،شکایت کرنے والے کو تحفظ بھی ایک اور اہم مسئلہ ہے،اگر کسی محکمہ کا ایماندار اہلکار اپنے ہی محکمے میں کرپشن کی نشاندہی کرتا ہے اور اسے یقین ہو کہ کل اسی کے خلاف تبادلہ، محکمانہ کارروائی یا دوسری مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں تو وہ خاموش رہنے کو ترجیح دے گا،اس لیے پنجاب میں ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں شکایت کنندہ کی شناخت ظاہر نہ ہو مگر انتقامی کارروائی کی صورت میں اسے تحفظ حاصل ہو، اسی طرح ایک شہری کو افسر نہیں، نظام سے کام ملےکرپشن ختم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ شاید یہی ہے کہ عام آدمی کا کام کسی مخصوص افسر کے موڈ، تعلق یا صوابدید پر منحصر نہ رہے،زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اس سمت میں ایک اہم مثال ہے،اسی تصور کو پولیس، بلدیاتی خدمات، کاروباری لایسینس ، تعمیراتی اجازت اور دیگر عوامی خدمات تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ہمیں کامیابی کا پیمانہ بھی بدلنا ہوگاکرپشن کے خلاف جنگ میں سب سے دلچسپ تبدیلی یہ ہونی چاہیے کہ حکومت اپنی کامیابی کا پیمانہ صرف گرفتاریوں اور مقدمات کو نہ بنائے ، یہ اعداد اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے،کتنے مقدمات قانوناً ثابت ہوئے؟ کتنی رقم واپس آئی؟ اور کرپشن کا وہ راستہ کتنا بند ہوا جس سے مسئلہ پیدا ہوا تھا؟اگر ایک پٹواری گرفتار ہو جائے لیکن اگلا پٹواری اسی نظام میں وہی کام کرتا رہے تو ہم نے ایک شخص کو تو پکڑ لیا، مگر مسئلے کو نہیں۔
کینیڈا کے نظام سے ہمیں یہ ضرور سیکھنا چاہیے کہ یہاں حکومت کرپشن کو صرف جرم نہیں بلکہ انتظامی خامی بھی سمجھتی ہے،یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ کرپٹ آدمی کون ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اسے کرپشن کا موقع کس نظام نے دیا؟پنجاب میں اگر موجودہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پوسٹنگ ٹرانسفر ، افسران کے مفادات اور عوامی خدمات کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنا دیا جائے تو کرپشن کے خلاف جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے ،جس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایک وقت ایسا آئے جب کرپشن کرنا اور چھپانا مشکل ہو جبکہ پکڑے جانے سے بچنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہو،کرپٹ افسر کو پکڑنا ضروری ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری وہ نظام بنانا ہے جو اگلے کرپٹ افسر کے لیے راستے محدود کر دے۔

