کوئٹہ: فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین پر حملہ، 20 افراد ہلاک، 70 زخمی

کوئٹہ(بی بی سی اردو، پولیس، ریلوے حکام)کوئٹہ میں چمن پھاٹک اسٹیشن کے قریب فوجی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو لے جانیوالی ٹرین پر ہونیوالے حملے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق جبکہ 70 زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے نتیجے میں ٹرین کی متعدد بوگیاں تباہ ہو گئیں جبکہ اطراف کی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ریلوے حکام کے مطابق دھماکا اتوار کی صبح اس وقت ہوا جب ٹرین چمن پھاٹک اسٹیشن سے گزر رہی تھی۔ دھماکے کے باعث انجن سمیت 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ 2 بوگیاں مکمل طور پر الٹ گئیں۔ ٹرین میں زیادہ تر سیکیورٹی اہلکار اور ان کے اہلِ خانہ سوار تھے جو عید کی چھٹیوں کیلئےکوئٹہ سے پشاور اور دیگر آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہونے والے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل ایک بارود سے بھری گاڑی تیزی سے آ کر ٹرین سے ٹکرائی جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ متعدد گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔

مقامی رہائشی نصیر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے وقت ٹرین حرکت میں تھی اور اس میں مسافر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کی صبح ہونے کے باعث ان کا خاندان سو رہا تھا کہ زور دار دھماکے سے گھر کی تمام کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

بلوچستان پولیس اور سول انتظامیہ کے حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں 3 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا، تاہم پاکستانی حکام نے تاحال اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔پوری قوم غم کی اس گھڑی میں بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ ٹرین کو ایک قریبی فوجی چھاؤنی سے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کی طرف لایا جا رہا تھا جہاں سے مسافروں نے جعفر ایکسپریس کے ذریعے پشاور اور دیگر شہروں کیلئے روانہ ہونا تھا۔