کویت سٹی (ایجنسیاں) کویت کی فوجداری عدالت نے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد یوسف سعود الصباح کو قتل کرنے کی سازش، ایران کیلئےجاسوسی اور لبنانی تنظیم حزب اللہ میں شمولیت کے جرم میں 3 افراد کو سزائے موت سنا دی، جبکہ 8 دیگر ملزمان کو 5، 5 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق عدالت نے پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ تینوں ملزمان کویت کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے، ایران کے لیے جاسوسی کرنے، نائب وزیراعظم کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی اور حزب اللہ میں شمولیت کے مرتکب پائے گئے۔
عدالت کے مطابق کویت میں داخلی سلامتی کے ذمہ دار اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو کسی غیر ملکی قوت کی ہدایت پر قتل کرنے کے لیے گروہ کو متحرک کرنا ریاست کے خلاف دشمنی پر مبنی کارروائی ہے۔
عدالت نے کہا کہ اس سازش کا مقصد قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا، ملک میں بدامنی پھیلانا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے حکام کی صلاحیت پر عوامی اعتماد کمزور کرنا تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ قومی سلامتی پورے معاشرے کا مشترکہ حق ہے اور کویت کی خودمختاری کو کسی غیر ملکی طاقت یا اس کی ہدایات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال اگست میں بھی کویتی سکیورٹی اداروں نے ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دہشت گردانہ سازش ناکام بناتے ہوئے داعش سے تعلق رکھنے والے ایک مشتبہ شخص کو حملہ کرنے سے پہلے گرفتار کیا تھا۔
خلیجی ممالک کو رواں سال ایران کے حملوں اور ایرانی حکومت کی حمایت میں ہونے والی مبینہ اندرونی سازشوں کے باعث سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں بھی کویت نے حزب اللہ سے مبینہ روابط کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا تھا۔ وزارت داخلہ کے مطابق 6 افراد نے جاسوسی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، جن میں قتل کی تربیت حاصل کرنا بھی شامل تھا۔ ان میں 5 کویتی شہری تھے، جبکہ 14 دیگر مشتبہ افراد، جن میں کویتی، لبنانی اور ایرانی شہری شامل تھے، کی ملک سے باہر موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ایک علیحدہ مقدمے میں حکام نے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم سے وابستہ 14 کویتی اور 2 لبنانی شہریوں کو بھی ملک میں تخریبی کارروائی کی منصوبہ بندی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

