تحریر(سید ندیم احمد شاہ)27 اکتوبر مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایسا المناک دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دن نہ صرف کشمیریوں کی کٹھن جدوجہد کی یاد دلاتا ہے، بلکہ بھارتی حکام کے ہاتھوں برداشت کی جانے والی سنگین ناانصافیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ 1947 میں، اسی منحوس دن، بھارت نے کشمیری عوام کی شدید خواہشات اور بین الاقوامی اصولوں کے برعکس، طاقت کے زور پر کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ یہ متنازع الحاق ہی دراصل مسئلہ کشمیر کی بنیاد بنا۔ ’الحاق کی دستاویز‘ — جسے اس قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے جوبذات خود ایک متنازع ہونے کی وجہ سے بھارت کے دعوے کی قانونی حیثیت باے شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ جموں و کشمیر کا تنازعہ، جنوبی ایشیائی خطے میں “حقِ خود ارادیت”‘ کا ا ایسا نامکمل ایجنڈا ہے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ یہ خطہ مسلسل دہشت گردی اور تشدد کی زد میں ہے۔ یہاں کے عوام نے بھارت کی فوجی طاقت کا شدید ترین دباؤ کا سامنا کیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانیں المناک طور پر ضائع ہوئیں، بلکہ آرٹیکل 370 اور 35-اے کے خاتمہ کے ذریعے مقبوضہ علاقے کے جغرافیائی آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ایک تشویشناک کوشش بھی کی گئی، جس سے جموں و کشمیر کی خصوصی خود مختاری والی حیثیت چھین لی گئی۔ اس اقدام نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا، جس کے نتیجے میں سخت کرفیو، پابندیاں، مواصلاتی نظام کی بندش، فوجی کارروائیوں میں ہلاکتیں اور لوگوں کی جبری گمشدگیاں جیسے واقعات پیش آئے۔ بھارت کے یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔
کشمیر کی ہنگاموں اور افراتفری سے بھرپورتاریخ کی بازگشت آج بھی وادی میں سنائی دیتی ہے۔ خود مختاری اور حقِ خود ارادیت کے وعدوں کے باوجود، کشمیریوں کے حقوق کو مسلسل پامال کیا گیا ہے اور ان کی آواز کو ہمیشہ ان سنی کر دیا گیا ہے۔ آج کے مشکل حالات میں بھی، ان کا غیر متزلزل عزم امید کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ایک ایسا مستقبل ضرور آئے گا جہاں ان کے حقوق کا احترام کیا جائے گا۔ گزشتہ سات دہائیوں سے، کشمیر جنوبی ایشیا میں ایک تلخ تنازعے کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خطے میں امن کا دارومدار اسی تنازعے کے حل پر ہے۔ لہٰذا، عالمی برادری کو فعال کردار ادا کرناچاہیئے اور بھارت کو اس بات کا پابند بنانا چاہیئے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کا احترام کرے اور تنازعے کے پرامن اور سب کو شامل کرنے والے (شمولیتی) حل کی جانب کام کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے لیے ٹھوس اور مربوط کوششیں کریں۔
بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور عالمی سطح پر احتساب کو فروغ دینے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا، نہ صرف ایک اخلاقی تقاضا ہے بلکہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ لاکھوں کشمیری طویل عرصے سے مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنی اس کسمپرسی کے خاتمے کے لیے اس تنازعے کو پرامن طور پرحل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن دوبارہ معمول پر لایا جائے۔

