ملٹن میں طویل عرصے سے قائم قیادت تبدیل،جارج میناکاکس نے 20 ہزار 262 ووٹ حاصل کئے
89 سالہ گورڈ کرانٹز کے 46 سالہ دورِ میئرشپ کا اختتام، گورڈ کرانٹز 11 ہزار 398 ووٹ حاصل کرسکے
زینب عظیم نے 6 ہزار 203 ووٹ حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی
جنوبی ایشیائی پس منظر کے امیدواروں کی انتخابی حکمت عملی کامیاب نہ ہوسکی
پانچ امیدواروں کے مجموعی ووٹ بھی فاتح امیدوار سے 7 ہزار 648 کم رہے
ملٹن (بابا عرفان ملک سے) کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر ملٹن میں 26 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے شہر کی سیاسی تاریخ بدل دی۔ تقریباً نصف صدی تک میئر کے عہدے پر فائز رہنے والے 89 سالہ گورڈ کرانٹز کو نئے امیدوار جارج میناکاکس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے ساتھ ہی ملٹن میں طویل عرصے سے قائم بلدیاتی قیادت کا خاتمہ ہوگیا۔
انتخابی نتائج کے مطابق جارج میناکاکس نے 20 ہزار 262 ووٹ حاصل کیے، جو مجموعی ووٹوں کا 45.20 فیصد ہیں، جبکہ گورڈ کرانٹز 11 ہزار 398 ووٹ اور 25.43 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ جارج میناکاکس نے اپنے قریب ترین حریف کو 8 ہزار 864 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔
میئر کے انتخاب میں زینب عظیم 6 ہزار 203 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہیں، انہیں 13.84 فیصد ووٹ ملے۔ سمیرا علی نے 3 ہزار 540 ووٹ حاصل کرکے چوتھی جبکہ ندیم اکبر نے 2 ہزار 160 ووٹ لے کر پانچویں پوزیشن حاصل کی۔
دیگر امیدواروں میں ملیحہ احمد کو 536، ارجن جوشی کو 344، آصف خان کو 175، چیز امن کو 135 اور عبدالکریم اکبک کو 72 ووٹ ملے۔
ملٹن کے انتخابی نتائج کا ایک اہم پہلو پاکستانی اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی کارکردگی بھی رہی۔ متعدد امیدواروں نے میئر کے انتخاب میں حصہ لیا، تاہم کوئی بھی کامیابی حاصل نہ کرسکا۔
زینب عظیم، سمیرا علی، ندیم اکبر، ملیحہ احمد اور آصف خان کے مجموعی ووٹ 12 ہزار 614 بنتے ہیں، جو کامیاب امیدوار جارج میناکاکس کے ووٹوں سے 7 ہزار 648 کم ہیں۔ اس حساب سے اگر ان پانچوں امیدواروں کے تمام ووٹ کسی ایک امیدوار کو مل جاتے تب بھی وہ کامیاب امیدوار سے آگے نہ نکل پاتا۔ تاہم یہ محض ریاضیاتی موازنہ ہے، کیونکہ انتخابی اتحاد کی صورت میں ووٹروں کی ترجیحات اور ووٹ ڈالنے کی شرح تبدیل ہوسکتی تھی۔
انتخابی نتائج کے بعد پاکستانی کمیونٹی میں سیاسی حکمت عملی، امیدواروں کے درمیان اتفاق رائے اور بلدیاتی سیاست میں مؤثر شرکت کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے۔ بعض کمیونٹی حلقوں کا خیال ہے کہ ایک ہی نشست کے لیے متعدد امیدواروں کے میدان میں آنے سے ووٹ تقسیم ہوجاتے ہیں، تاہم ملٹن کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پانچ امیدواروں کے مجموعی ووٹ بھی کامیاب امیدوار کے ووٹوں سے خاصے کم تھے۔
ان نتائج نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ پاکستانی اور جنوبی ایشیائی پس منظر کے امیدوار اپنے روایتی حمایتی حلقوں سے آگے بڑھ کر دیگر قومیتوں، علاقوں اور سماجی طبقات کے ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے۔
دوسری جانب گورڈ کرانٹز کی شکست ملٹن کی بلدیاتی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ وہ پہلی مرتبہ 1965 میں سٹی کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے اور 1980 سے مسلسل میئر کے عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 61 سال بلدیاتی سیاست میں گزارے، جن میں 46 سال میئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہیں کینیڈا میں طویل ترین عرصے تک مسلسل میئر رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔
ان کے طویل دور میں ملٹن کی آبادی، رہائشی علاقوں، کاروباری سرگرمیوں اور شہری سہولتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ وہ شہر کی ترقی کے متعدد منصوبوں اور علاقائی انتظامی معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔
نومنتخب میئر جارج میناکاکس کی ترجیحات میں مقامی معیشت کو مضبوط بنانا، شہری اخراجات میں جواب دہی، عوامی تحفظ اور متوازن ترقی شامل ہیں۔ ان کی کامیابی کے بعد ملٹن میں نئی بلدیاتی قیادت کا آغاز ہوگیا ہے۔
انتخابی رات دستیاب نتائج کے مطابق ملٹن میں ووٹنگ کی شرح تقریباً 39 فیصد رہی، جو 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد پوائنٹس زیادہ تھی۔
میئر کے انتخاب کے علاوہ ریجنل کونسلر کی نشست پر بھی پاکستانی نژاد امیدوار سیمی اعجاز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رک ڈی لورینزو 5 ہزار 903 ووٹ، یعنی 51.35 فیصد حاصل کرکے کامیاب ہوئے، جبکہ سیمی اعجاز 4 ہزار 607 ووٹ اور 40.08 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ دیگر پاکستانی نژاد امیدواروں میں سلمان ظفر کو 657 اور حارث اقبال کو 328 ووٹ ملے۔
پاکستانی نژاد بعض امیدوار متعدد مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔ ان میں ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جو وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر انتخابی ناکامیوں کا سامنا کرچکے ہیں۔ مسلسل شکستوں کے بعد ان امیدواروں کو اپنے سیاسی مستقبل، انتخابی حکمت عملی اور ناکامی کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کہاں مشکلات پیش آرہی ہیں، انتخابی مہم میں کون سی خامیاں رہ جاتی ہیں اور آئندہ کامیابی کے لیے کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا یہ امیدوار آئندہ انتخابات میں دوبارہ قسمت آزمائیں گے یا بہتر سیاسی حالات اور مناسب وقت کا انتظار کریں گے۔
ملٹن کے انتخابی نتائج میں پاکستانی اور جنوبی ایشیائی پس منظر کے امیدواروں کی مجموعی کارکردگی کا مکمل جائزہ کونسلر اور اسکول بورڈ ٹرسٹی کی نشستوں کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ تاہم میئر کے انتخاب نے واضح کردیا ہے کہ بلدیاتی سیاست میں کامیابی کے لیے مضبوط انتخابی مہم، شہری مسائل کا قابل عمل حل، مختلف کمیونٹیز سے مؤثر رابطہ اور ووٹروں کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

