جس امریکی وزیر نے اگست میں مذاکرات کو تعطل کا شکار کیا تھااب وہی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کیلئے سرگرم
اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور گاڑیوں پر عائد محصولات میں کمی کے معاملات زیر بحث
اوٹاوا (سی ٹی وی نیوز، رائٹرز) کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سی ٹی وی نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جن ہاورڈ لٹنک کی مداخلت کے باعث رواں سال اگست میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تھے، اب وہی دوبارہ بات چیت شروع کرانے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل ہاورڈ لٹنک کی پہل پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدائی بات چیت میں امریکا کی جانب سے عائد کردہ تجارتی محصولات، بالخصوص اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور گاڑیوں پر محصولات میں کمی کے امکانات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
یہ مذاکرات امریکی تجارتی قانون کی دفعہ 232 کے تحت عائد محصولات سے متعلق ہیں، جن میں قومی سلامتی کی بنیاد پر درآمدی اشیا پر اضافی محصولات لگائے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان زیادہ باضابطہ مذاکراتی عمل شروع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
“اگست میں مذاکرات کیوں ناکام ہوئے تھے؟”
رواں سال اگست میں کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ گئے تھے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے بعد بات چیت ناکام ہوگئی تھی۔
اس وقت ہاورڈ لٹنک نے گاڑیوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر محصولات کے معاملے میں سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ کینیڈا نے امریکی مطالبات کو اپنے قومی اور معاشی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
اس صورتحال کے بعد کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے واضح کیا تھا کہ کینیڈا ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اس کے مفادات اور خودمختاری کے منافی ہو۔
“مارک کارنی اور ٹرمپ کے درمیان بھی رابطہ”
یکم نومبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کے درمیان تجارتی معاملات پر گفتگو ہوئی۔ کارنی نے اس رابطے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی فائدے کے تجارتی معاہدے کے خدوخال پر تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے بھی کہا کہ دونوں ممالک کے پاس ایک اچھے تجارتی معاہدے کا تصور موجود ہے، جو امریکی کسانوں اور معیشت کیلئے فائدہ مند ہوگا۔کارنی کے مطابق دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیمیں آئندہ ہفتوں میں اس معاہدے کو عملی شکل دینے کیلئے کام کریں گی۔
“کینیڈا کیلئےاہمیت”
امریکا کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان محصولات کے تنازع نے گاڑیوں، اسٹیل، ایلومینیم اور لکڑی سمیت متعدد صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا نے کینیڈین اسٹیل پر 50 فیصد اور گاڑیوں پر 25 فیصد تک محصولات عائد کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان نئی بات چیت کا بنیادی مقصد ان محصولات میں ریلیف حاصل کرنا ہے۔تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ امریکا اپنے تمام محصولات واپس لینے پر آمادہ ہوگا۔

