برامپٹن، اونٹاریو (نمائندہ خصوصی) کینیڈین حکومت نے ملک کے معاشی مستقبل کو مضبوط بنانے کیلئے نئی قومی حکمت عملی پر عوامی مشاورت کا آغاز کردیا، جس کا مقصد بجلی کے نظام کو مضبوط بنانا، معاشی ترقی کو فروغ دینا اور کینیڈین شہریوں کو آئندہ کئی دہائیوں تک سستی، قابل اعتماد اور صاف توانائی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈسکشن پیپر ’’Powering Canada Strong: A National Strategy for an Electrified Canadian Economy‘‘ میں کینیڈا کے بجلی کے نظام کو جدید بنانے اور بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے طویل مدتی منصوبہ بندی کا وژن پیش کیا گیا ہے۔
برامپٹن ساؤتھ سے رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو نے کہا کہ کینیڈا کا معاشی مستقبل اس بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے وابستہ ہے جو بڑھتی ہوئی آبادی اور کمیونٹیز کی ضروریات پوری کرنے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قومی حکمت عملی اس بات کو یقینی بنانے کیلئےہے کہ کینیڈین خاندانوں اور کاروباری اداروں کو سستی اور قابل اعتماد بجلی میسر ہو، جبکہ معیشت کو مضبوط، جدت کو فروغ اور توانائی کے مستقبل کو مزید مستحکم بنایا جاسکے۔
ڈسکشن پیپر کے مطابق کینیڈا میں بجلی کی طلب 2050 تک دوگنا ہونے کی توقع ہے کیونکہ صنعتوں میں توسیع، ٹرانسپورٹ اور عمارتوں میں بجلی کے استعمال میں اضافہ جبکہ مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے نئے شعبوں میں بھی ملک بھر میں ترقی متوقع ہے۔
کینیڈا اس وقت دنیا کے سستے اور صاف بجلی کے نظام رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ جی 7 ممالک میں رہائشی اور صنعتی بجلی کی لاگت بھی نسبتاً کم ہے اور ملک میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ غیر مضر اخراج والی توانائی سے حاصل ہوتا ہے۔
وفاقی حکمت عملی کا مقصد ان فوائد کو برقرار رکھتے ہوئے بجلی کے گرڈ کو جدید بنانا، بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت، صوبوں کے درمیان تعاون بڑھانا اور معیشت کے مختلف شعبوں میں بجلی کے استعمال کو تیز کرنا ہے۔
حکمت عملی کے اہم نکات میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کیلئےنظام کی تعمیر اور جدید کاری، بجلی کو سستا رکھنے کیلئےطویل مدتی مالی معاونت، صوبوں اور علاقوں کے درمیان بجلی کے رابطوں کو مضبوط بنانا اور بنیادی ڈھانچے کی بروقت ترقی کیلئے ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنانا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ہنرمند تجارت سے وابستہ افرادی قوت، ورک فورس ڈویلپمنٹ اور ملکی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری، توانائی کی کارکردگی میں بہتری اور گرڈ کی جدید کاری بھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ڈسکشن پیپر میں کہا گیا ہے کہ معیشت کی بجلی پر منتقلی سے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی کی بہتر کارکردگی کے ذریعے بہت سے کینیڈین گھرانوں کے مجموعی توانائی اخراجات بھی کم ہوسکتے ہیں۔ درست سرمایہ کاری کے نتیجے میں آنے والی دہائیوں کے دوران کینیڈین شہری توانائی کے اخراجات میں اربوں ڈالر بچاسکتے ہیں۔
سونیا سدھو نے مزید کہا کہ کمیونٹیز کی مسلسل ترقی کے ساتھ توانائی کے نظام کو بھی ان کی ضروریات کے مطابق وسعت دینا ہوگی۔ صوبوں، علاقوں، مقامی شراکت داروں، صنعتوں اور کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کام کرکے ایسا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جاسکتا ہے جو کینیڈا کو مسابقتی، محفوظ اور خوشحال رکھنے میں مدد دے۔
وفاقی حکومت نے قومی حکمت عملی کی تیاری کیلئے کینیڈین شہریوں، صوبائی و علاقائی حکومتوں، مقامی شراکت داروں، یوٹیلیٹی کمپنیوں، صنعت، مزدور تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور آرا طلب کی ہیں۔

