اسلام اور روایات کی پاسداری؟

وجوہ خواہ کچھ بھی ہوں، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خیر سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نت نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور تاریخ کے دھبوں میں اضافے کی ر وش روکنے کا کب کسی کو خیال آئے گا۔ تاریخ کے اوراق پر ایسی لغزشوں کا ذکر کسی بھی صورت مناسب نہیں گردانا جا سکتا۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ 28اگست بروز بدھ بلکہ 27 اور 28اگست کی درمیانی رات بھی ملک کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے متعدد علاقوں میں کسی پیشگی اطلاع کے بغیر کئی کئی گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ ہوئی،رات کو لاتعداد مساجد ونجی طور پر منعقدہ درود و سلام کی محافل کے شرکاء شدید ترین گرمی میں سرورِ کائنات کے حضور نذرانہ عقیدت واحترام پیش کرتے رہے۔کرہ ارض کے پرستارانِ توحید کے لئے یہ سوچ ہی ناقابل یقین ہے کہ اِس مقدس یوم سعید پر بااختیار طبقہ حکمرانوں کو ایسے اقدامات کیلئے کھلا چھوڑ دے، جس سے ملت اسلامیہ کا جذبات اور وسوسوں سے دوچار ہونا فطری امر ہے۔

اس حقیقت سے اغماض ممکن نہیں ہے کہ خار زار سیاست کی بھول بھلیوں میں الجھی ہوئی قیادت کی اٹھکیلیاں ملک کی قابل اعتماد باعث فخر معاشرتی روایات کی راہوں پر پھسلن میں احتیاط کو فراموش کر چکی ہے۔توحید کے پرستاروں سمیت کرہ ارض کی دیگر اقوام بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بت پرستی میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی ہندو قوم کی”پتنیاں“ یعنی بیویاں اپنے خاوندوں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہیں اور کبھی ہندؤں کی ”پتنیوں“ بیویوں نے اپنے خاوندوں کا نام نہیں لیا وہ اگر اپنے پتی کو بلاتی ہوں تو اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کا نام لے کر پکارتی ہیں جیسے نسبت کور”کے ابا“ وغیرہ۔اب خدا کے فضل سے سرا سر اسلامی اقدار و روایات کی پرچم بردار معاشرتی زندگی میں پلنے بڑھنے والوں نے خوامخواہ ایک ہندو روایت کو اپنی سیاست کا حصہ بنانا کیوں بہترسمجھا ہے، پہلے بھی تو پاکستان میں سیاسی میدان کے ایک سے ایک بڑے کھلاڑیوں کی کھیپ سرگرم ہوا کرتی تھی، اس عرصے کے دوران فوجی حکمران بھی آئے اور باقاعدہ نوید ِ مارشل لاء ساتھ لائے۔ مطلق العنانیت سے عبارت حکومتوں کا دور بھی پاکستانیوں کا مقدر بنا۔ ایوب خان بھی فیلڈ مارشل کی کرسی پر جلوہ افروز ہوئے۔ قصہ مختصر،ایوب خان سے لے کر تادم تحریر ملک و قوم کو مطلق العنانیت سے واسطہ رہا مگر کسی دور میں بھی سیاسی سوچ کبھی مسلمہ مسلم روایات سے ہٹ کر ہندو روایات کا احیاء نہ تھی، جلیل القدر قسم کے سیاستدان وقت کے آمروں کے سدِ راہ بنے ان میں سید حسین شہید سہروردی تھے۔ سردار عبدالقیوم خان، خان عبدالغفار، عبدالولی خان، غوث بخش بزنجو،نواب اکبر بگٹی تھے اسی طرح سردار عطاء اللہ مینگل،ارباب سکندر خان خلیل، مولانا مفتی محمود،مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی?،میاں طفیل محمد،پروفیسر مقصود احمد، سید مقصود گردیزی، نور الامین، میاں محمود علی قصوری،خواجہ خیر الدین، نوابزدہ نصر اللہ خان اور اس کے علاوہ اَن گنت تھے مگر کسی دور میں بھی کسی مقتدرہ یا ان کیے پروردہ حکمرانوں کی کسی کھیپ کی طرف سے کسی سیاستدان کا نام نہ لینے کی روایات کو اپنایا نہ گیا۔ جیسا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو عدم اعتماد کے نتیجے میں محروم اقتدار کرنے کے بعد اس جماعت کے سربراہ عمران خان کا نام مقتدرہ اور ان کے پروردہ اربابِ اقتدار کیلئےممنوعہ ہے ا ور ہر طرح کے صوبائی و وفاقی وزراء سمیت وزیراعظم تک کی زبان سے بانی پی ٹی آئی کہنے کو قصداً رواج ملتا رہا اور یہ روش تادم تحریر جاری ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اس روش کو ملک میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت بھی اپنائے ہوئے ایک قسم کی خوشی محسوس کرتی ہے اگرچہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے بھی عمران خان کے مقدمے یا کسی اپیل وغیرہ کے بارے میں کوئی ریمارکس آتے ہیں تو اس کا ذکر کرتے ہوئے میڈیا میں سرکاری محکموں کے اہلکاروں سمیت وفاقی وزراء عمران خان کا نام لیتے ہوئے اسی طرح شرماتے ہیں جس طرح ہندو عورت اپنے پتی کا نام لینے سے شرماتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اربابِ سیاست کو بابائے قوم حضرت قائداعظم? اور ان کے ساتھی بانیانِ پاکستان کی سیاسی روایات کو زندہ و تابندہ رکھتے ہوئے تعمیر وطن کیلئے مستعد ہوں، تاریخ میں دھبوں کو نہ آنے دیں۔