امریکا اور کینیڈا کی تجارتی جنگ میں شدت، کینیڈا کا 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج

اوٹاوا (رائٹرز، اے پی، الجزیرہ)امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ہے، دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کے بعد طویل تجارتی تنازع کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے جواب میں کینیڈا نے بھی تقریباً 27.6 ارب کینیڈین ڈالر (19.9 ارب امریکی ڈالر) مالیت کی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی ٹیرف 22 اگست سے نافذ ہوچکے ہیں جبکہ کینیڈا کے جوابی ٹیرف 8 ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق جوابی ٹیرف کی شرح 15، 25 اور 50 فیصد ہوگی اور یہ تقریباً 700 امریکی مصنوعات پر لاگو ہوں گے۔ ان میں اسٹیل اور ایلومینیم، ڈیری مصنوعات، برقی آلات، زرعی مشینری، پلپ اینڈ پیپر، الیکٹرانکس، فرنیچر، ملبوسات، سمندری خوراک اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

اس کے تحت بعض اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھایا جائیگا، جبکہ ڈیری مصنوعات، بعض سمندری خوراک اور گھریلو آلات پر 25 فیصد اور بعض الیکٹرانکس و اوزاروں پر 15 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔

کینیڈا کے وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شانپین کے مطابق یہ اقدامات امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے ٹیرف کا ڈالر کے بدلے ڈالر اور شرح کے بدلے شرح جواب ہیں۔ کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مقامی صنعتوں، کارکنوں، کسانوں اور کاروباری اداروں کو تحفظ دینا ہے۔

کینیڈین حکومت نے امریکی ٹیرف سے متاثر ہونے والے کاروباری اداروں اور کارکنوں کے لیے 7.5 ارب کینیڈین ڈالر کے نئے اور توسیع شدہ امدادی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔

حکومت کے مطابق اس پیکیج میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے مالی معاونت، کمپنیوں کے نقد بہاؤ میں مدد، کارکنوں کے لیے فوری امداد اور ٹیرف سے متاثرہ صنعتوں کو سہارا دینے کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ پیکیج پہلے سے فراہم کیے گئے تقریباً 25 ارب کینیڈین ڈالر کے ٹیرف سپورٹ پروگرامز کے علاوہ ہے۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے مذاکرات معطل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے آخری مرحلے میں پیش کی گئی شرائط کینیڈا کے مفادات، معیشت اور خودمختاری کے لیے قابلِ قبول نہیں تھیں۔

امریکی حکومت نے دوسری جانب مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کینیڈا پر عائد کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات نے امریکا، میکسیکو، کینیڈا معاہدے (USMCA) کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کردیے ہیں۔

تجارتی کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر بھی 50 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جو معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوسکتے ہیں۔

دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے سے گہری طور پر جڑی ہوئی ہیں، اسلئےماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل تجارتی جنگ سے سپلائی چین متاثر، کاروباری لاگت میں اضافہ اور صارفین کیلئے قیمتیں بلند ہوسکتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق کینیڈا اپنی برآمدات کا تقریباً 70 فیصد امریکا کو بھیجتا ہے، اس لیے طویل عرصے تک جاری رہنے والا تجارتی تنازع کینیڈین معیشت اور روزگار کیلئے اہم خطرات پیدا کرسکتا ہے۔