آبادی کی بنیاد پر پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس صوبے کے کروڑوں عوام مختلف قسم کے ”مافیا“ کا شکار چلے آ رہے ہیں اس حقیقت کا اعتراف اقتدار کے ایوان اور اس کی غلام گردشوں تک رسائی رکھنے والے بڑے بڑے ذی وقار لوگوں کی زبانی اکثر کیا گیا ہے۔اب حال ہی میں ایک اور ”مافیا“ کے انکشاف نے صوبے کے عوام کو لرزہ براندام کر کے رکھ دیا ہے۔”شوگر مافیا“، ”انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر مافیا“، زرعی پیداواری گرانی مافیا“ وغیرہ تو زبانِ زد عام ہیں۔اِس ملک کے ایک انتہائی قابل صد احترام اور معتبر ترین ادارے لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے جس ایک اور نئے،مگر عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والے مہلک ترین مافیا کا انکشاف ہوا ہے اس کا کام مردہ مرغیوں کا کاروبارکرنا ہے۔اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج مسٹر جسٹس غلام سرور نہنگ نے 1200کلو مردہ مرغیاں فروخت کرنے کے جرم میں ملوث ملزم تنویر کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔مسٹر جسٹس غلام سرور نہنگ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ ایک مافیا ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ پولیس ایسے لوگوں کو تحفظ دیتی ہے اور ایسے کیسز میں بروقت تفتیش نہیں کرتی جس کا فائدہ ملزمان اٹھاتے ہیں۔مسٹر جسٹس غلام سرور نہنگ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا ہے کہ ملزموں کو ریلیف دیکر معاشرے میں گھناؤنے جرائم کیلئےنہیں چھوڑا جا سکتا، فتیشی افسروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے جرائم کے مقدمات میں ترجیحی بنیادوں پر بلاتاخیر تفتیش مکمل کریں۔
حقائق کچھ اِس طرح ہیں کہ صوبائی دارالحکومت مرکز علم و ادب لاہور میں اربابِ حکومت کی عین ناک کے نیچے صوبے میں کروڑوں عوام کو لاکھوں کی تعداد میں ہر ماہ مردہ مرغیوں کا گوشت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اربابِ اختیار کی طرف سے اپنی من پسند مصروفیتوں سے وقت نکال کر کبھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کہ اتنے بڑے صوبے اور اس کے سب سے بڑے شہر لاہور سمیت دیگر مقامات پر بڑے بڑے قابل ِ ذکر پولٹری فارموں میں جو مرغیاں مرتی ہیں وہ کہاں کھپائی جاتی ہیں؟ اور ان کا مصرف کیا ہے۔ پولٹری کے کاروبار سے منسلک لوگوں میں مردہ مرغیوں کے بارے میں ٹھنڈی مرغی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور اسی نام سے زنددہ دِلوں کے شہر میں صحت مند و توانا لوگوں بالخصوص بچوں بچیوں میں انواع و اقسام کے نام کے مغربی انداز کے پکوان میں ”ٹھنڈی مرغیوں“ کا استعمال بعیداز قیاس نہیں، جبکہ اس سلسلے میں اربابِ حکومت کی طرف سے عوام بالخصوص نونہالانِ قوم بلکہ نوجوانوں کی صحت سے کھیلنے والے اس کھیل کی روک تھام کے لئے حکومتی سطح پر تادم تحریر کوئی منظم اور موثر پروگرام منظر عام پر نہیں آیا،ورنہ ایسے جرائم کی روک تھام اور ”ٹھنڈی مرغیوں“ کی اصطلاح کے حوالے سے کاروبار کرنے والے پولٹری ”مافیا“ کی حرکتوں پر قابو پانے کی سرکاری سطح پر ”پبلسٹی مہم“کو نظرانداز ہونے کا عہد حاضر میں تصور ہی محال ہے اب اس سلسلے میں کسی شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ لاہور ہائیکورٹ میں ایک ہزار دو سو کلو مردہ مرغیوں کو فروخت کرنے پر ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے تو یہ راز اب کوئی ڈھکا چھپا نہیں رہا کہ اس ہنستے بستے انسانی معاشرے کو مردہ مرغیوں کے گوشت کا گن لگانے کیلئےمافیا سرگرم عمل ہو چکا ہے۔اربابِ اختیار کا اولین فرض ہے کہ وہ پولٹری فارموں کو ہر طرح کی توسیع و ترقی کیلئے سہولتیں فراہم کرنیوالے اربوں روپے سے چلنے والے اداروں سے معلوم کریں کہ انہوں نے پولٹری فارموں کی تعداد، ان کی کل مرغیوں کی تعداد اور ان میں مرنیوالی مرغیوں کی روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ تعداد کتنی ہے۔اس حوالے سے ان اداروں نے ابھی تک کوئی ایسا ریکارڈ مرتب کیا ، نہ ہی حکام بالا کو آگاہ کیا ہے اور مرنے والی مرغیوں کو تلف کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ اور انہیں لاہور اور دیگر مقامات پر کہاں تلف کیا جاتا ہے اور اب تک صوبے میں پولٹری فارموں کی مرغیوں کی کل تعداد کے مقابلے میں مرنے والی مرغیوں کا تناسب کیا ہے۔ کاش تفصیلی اعداد و شمار حکومت کے ارباب اختیار کی طرف سے مرتب کرنے کی ہدایت کی ہوتی تو اس گھناؤنے جرم کے فروغ پانے کے راستے مسدود ہو جاتے۔

