امریکا ایران مذاکرات پر پاکستان اور قطرکا 60 روزہ امن روڈ میپ پرمشترکہ اتفاق

اسلام آباد / برگن اسٹاک(مشترکہ اعلامیہ، پاکستان و قطر وزارتِ خارجہ)سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ہونیوالے امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات “حوصلہ افزا پیش رفت” کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے، جہاں فریقین نے 60 دن کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کیلئے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان اور قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں تمام فریقین نے ایک”ہائی لیول کمیٹی” کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی اور پیش رفت کو آگے بڑھائے گی۔

اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹی 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئےایک واضح لائحہ عمل کی نگرانی کرے گی، جبکہ چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے اس کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نیوکلیئر امور، پابندیوں میں نرمی، اور تنازعات کے حل کیلئے الگ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

مزید بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کیلئےایک مستقل کمیونیکیشن لائن بھی قائم کر دی گئی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مذاکرات “مثبت اور تعمیری ماحول” میں ہوئے اور تکنیکی سطح کی بات چیت آئندہ ہفتے تک جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مذاکرات میں”اہم پیش رفت” ہوئی ہے، جس میں تیل و پیٹروکیمیکل برآمدات پر نرمی، بعض منجمد اثاثوں کی بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں پر بات شامل ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مذاکرات کو “نئے آغاز کا موقع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکانات موجود ہیں۔

پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مذاکرات میں شرکت کی، جبکہ قطر اور پاکستان نے ثالثی کردار ادا کیا۔

اعلامیے کے مطابق لبنان میں کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کا معاملہ اب بھی مذاکرات کا اہم نکتہ ہے، تاہم فریقین نے کشیدگی کم کرنے اور امن عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔